کے پی اسمبلی بل میں میڈیا پر پابندیاں اور ایم پی ایز کے مراعات

Pakistan News Desk21 hours پہلے

ایک نظر میں

  • خیبر پختونخوا (کے پی) اسمبلی میں مبینہ طور پر مراعات سے متعلق ایک نئے قانون پر غور کیا جا رہا ہے، جس نے تنازعہ کو جنم دیا ہے۔
  • رپورٹس کے مطابق کے پی کے قانون سازوں میں "بغاوت" کی اطلاعات ہیں، اور سہیل آفریدی نے مبینہ طور پر مجوزہ "مراعاتی بل" پر استعفیٰ دے دیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کچھ اراکین بھی "بلیو پاسپورٹ" سے …
  • منصور علی خان نے اختیار ولی خان سے اس نئے قانون کے بارے میں سخت سوالات کیے ہیں۔پاکستان نیوز اس خبر پر مزید مصدقہ تفصیلات سامنے آنے پر اپ ڈیٹ فراہم کرے گا۔
اب تک کی صورتحال: خیبر پختونخوا (کے پی) اسمبلی میں مبینہ طور پر مراعات سے متعلق ایک نئے قانون پر غور کیا جا رہا ہے، جس نے تنازعہ کو جنم دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق کے پی کے قانون سازوں میں "بغاوت" کی اطلاعات ہیں، اور سہیل آفریدی نے مبینہ طور پر مجوزہ "مراعاتی بل" پر استعفیٰ دے دیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کچھ اراکین بھی "بلیو پاسپور…

تازہ ترین پیش رفت: وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر نے خیبر پختونخوا کے بل کو متنازع قرار دیا ہے۔

مرکزی خبر

خیبر پختونخوا (کے پی) اسمبلی میں مبینہ طور پر مراعات سے متعلق ایک نئے قانون پر غور کیا جا رہا ہے، جس نے تنازعہ کو جنم دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق کے پی کے قانون سازوں میں “بغاوت” کی اطلاعات ہیں، اور سہیل آفریدی نے مبینہ طور پر مجوزہ “مراعاتی بل” پر استعفیٰ دے دیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کچھ اراکین بھی “بلیو پاسپورٹ” سے متعلق مسائل کے بعد بغاوت کر رہے ہیں۔

کے پی اسمبلی میں نئے بل میں کلاشنکوف لائسنس کے لیے دفعات شامل ہیں، جس میں ایک شق یہ بھی ہے کہ عدالتیں ان کے بارے میں پوچھ گچھ نہیں کر سکتیں۔ منصور علی خان نے اختیار ولی خان سے اس نئے قانون کے بارے میں سخت سوالات کیے ہیں۔

پاکستان نیوز اس خبر پر مزید مصدقہ تفصیلات سامنے آنے پر اپ ڈیٹ فراہم کرے گا۔


تازہ ترین اپڈیٹس

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر نے خیبر پختونخوا کے بل کو متنازع قرار دیا ہے۔


خیبر پختونخوا اسمبلی کا نیا بل، جو بحث کا موضوع بنا ہوا ہے، مبینہ طور پر میڈیا پر پابندیوں اور صوبائی اسمبلی کے اراکین (MPAs) کے لیے مراعات کی دفعات پر مشتمل ہے۔


خیبر پختونخوا حکومت مبینہ طور پر 3.4 ٹریلین کے سکینڈل کے درمیان اپنا دفاع کر رہی ہے، جو کہ متنازعہ مراعات بل سے منسلک ہے جسے خیبر پختونخوا اسمبلی پہلے ہی منظور کر چکی ہے۔


خیبر پختونخوا اسمبلی نے متنازعہ مراعات بل منظور کر لیا ہے۔ اس کی منظوری کے بعد، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر نے اس بل کو متنازعہ قرار دیا، اور طلال چوہدری نے بھی اس قانون سازی پر تنقید کی۔

پاکستان نیوز اس خبر پر مزید تصدیق شدہ تفصیلات سامنے آنے پر اپ ڈیٹ فراہم کرے گا۔


خیبر پختونخوا (کے پی) کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبائی اسمبلی سے منظور شدہ مراعات بل پر سوال اٹھایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ بل کے پی کے اراکین اور ان کے خاندانوں کو نئی مراعات دیتا ہے، جس پر تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔

متعلقہ بحث میں، جلال خان نے عوامی سطح پر اس بل کا دفاع کیا ہے۔

پاکستان نیوز اس خبر پر مزید تصدیق شدہ تفصیلات سامنے آنے پر اپ ڈیٹ فراہم کرے گا۔


ذرائع اور اپڈیٹس

Latest Activity

Related Articles

Responses

>