مرکزی خبر پر جائیں

بیرسٹر گوہر نے کے پی اسمبلی بل کے جائزے کی تصدیق کر دی

ایک نظر میں

  • خیبر پختونخوا (کے پی) اسمبلی نے اپنے اراکین کے اختیارات، مراعات اور قانون سازی کے استثنیٰ سے متعلق ایک نیا قانون منظور کر لیا ہے۔
  • اطلاعات کے مطابق، اس قانون میں اسمبلی اراکین کے لیے غیر معمولی مراعات شامل ہیں۔پاکستان نیوز اس خبر پر مزید تصدیق شدہ تفصیلات سامنے آنے پر اپ ڈیٹ کرے گا۔
  • بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی بل کا جائزہ لیا جائے گا۔
اب تک کی صورتحال: خیبر پختونخوا (کے پی) اسمبلی نے اپنے اراکین کے اختیارات، مراعات اور قانون سازی کے استثنیٰ سے متعلق ایک نیا قانون منظور کر لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اس قانون میں اسمبلی اراکین کے لیے غیر معمولی مراعات شامل ہیں۔پاکستان نیوز اس خبر پر مزید تصدیق شدہ تفصیلات سامنے آنے پر اپ ڈیٹ کرے گا۔

مرکزی خبر

خیبر پختونخوا (کے پی) اسمبلی نے اپنے اراکین کے اختیارات، مراعات اور قانون سازی کے استثنیٰ سے متعلق ایک نیا قانون منظور کر لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اس قانون میں اسمبلی اراکین کے لیے غیر معمولی مراعات شامل ہیں۔

پاکستان نیوز اس خبر پر مزید تصدیق شدہ تفصیلات سامنے آنے پر اپ ڈیٹ کرے گا۔


تازہ ترین اپڈیٹس

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی بل کا جائزہ لیا جائے گا۔


خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبائی قانون سازوں کو وسیع اختیارات اور مراعات دینے والے متنازعہ قانون پر نظرثانی کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ قانون کی دفعات کے حوالے سے میڈیا اور عوامی سطح پر شدید تنقید کے بعد کیا گیا ہے۔

یہ قانون، جو 30 اپریل کو منظور ہوا تھا اور 6 مئی کو گورنر نے دستخط کیے تھے، اس میں اراکین اور ان کے شریک حیات کے لیے تاحیات سرکاری پاسپورٹ، حفاظتی حراست سے مکمل استثنیٰ، اور آٹھ غیر ممنوعہ بور ہتھیاروں کے لائسنس کے حق جیسی دفعات شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ آفریدی نے کہا کہ ایکٹ میں کی گئی ترامیم کا جائزہ لیا جائے گا اور مستقبل کے اقدامات عوامی مفاد میں کیے جائیں گے۔ انہوں نے اسپیکر سے بھی کہا ہے کہ وہ پارلیمانی رہنماؤں سے ملاقات کریں تاکہ عام عوام اور میڈیا کے افراد کے تحفظات کو دور کیا جا سکے۔


پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے خیبر پختونخوا (کے پی) اسمبلی کے اراکین کے مراعات کے حوالے سے وضاحت جاری کی ہے۔ یہ وضاحت کے پی اسمبلی کی جانب سے متعارف کرائے گئے ایک نئے مراعات بل کی جاری جانچ پڑتال کے درمیان سامنے آئی ہے۔


خیبر پختونخوا (کے پی) کے قانون سازوں کے لیے مراعات نئے مراعاتی بل کے متعارف ہونے کے بعد زیرِ غور ہیں۔ طلال چوہدری نے کہا کہ وفاقی حکومت کے پی کے بلیو پاسپورٹ قانون کو تسلیم نہیں کرے گی۔ سہیل آفریدی نے بھی اس معاملے پر خاموشی توڑی ہے۔


وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے متنازعہ مراعات بل کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے خیبرپختونخوا امور، اختیار ولی خان کی پریس کانفرنس کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے بل کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔


وزیراعظم کے خیبر پختونخوا امور کے کوآرڈینیٹر، اختیار ولی خان، نے متنازعہ بل کی 40 اہم شقوں کو بے نقاب کیا ہے۔ اس کے علاوہ، سہیل آفریدی نے خیبر پختونخوا اسمبلی بل کے حوالے سے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے۔


وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے خیبرپختونخوا امور، اختیار ولی خان نے خیبرپختونخوا (کے پی) اسمبلی کی جانب سے اراکین کے اختیارات اور استثنیٰ کو وسعت دینے والے قوانین کی منسوخی کا مطالبہ کیا ہے۔ کے پی اسمبلی نے 30 اپریل کو تین قوانین منظور کیے تھے، جن کی 6 مئی کو گورنر فیصل کریم کنڈی نے توثیق کی تھی۔

اس قانون سازی میں دفعہ 10 کے تحت حفاظتی حراست سے مکمل استثنیٰ اور دفعہ 11 کے تحت کسی رکن کو فوجداری جرم میں گرفتار کرنے سے قبل اسپیکر کی پیشگی اجازت کی شرط جیسی دفعات شامل ہیں۔ مزید برآں، دفعہ 14 کے تحت اراکین اسمبلی کو آٹھ غیر ممنوعہ بور ہتھیاروں کے لائسنس کا حق دیا گیا ہے، جن میں چار مفت اور چار ادائیگی پر حاصل کیے جا سکتے ہیں، جو کہ پہلے کے چار مفت تاحیات لائسنس سے زیادہ ہیں۔ نئے قوانین اراکین اسمبلی اور ان کے شریک حیات کے لیے تاحیات سرکاری پاسپورٹ کی بھی اجازت دیتے ہیں۔

اختیار ولی خان نے ان تبدیلیوں پر تنقید کرتے ہوئے ہتھیاروں کے لائسنس میں اضافے اور تاحیات سرکاری پاسپورٹ کی فراہمی کی ضرورت پر سوال اٹھایا، اور کہا کہ یہ پاکستان کے لیے عالمی سطح پر شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ یہ قوانین اور گزٹ نوٹیفیکیشن ابھی تک کے پی اسمبلی کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہیں کیے گئے ہیں۔

پاکستان نیوز اس کہانی کو مزید تصدیق شدہ تفصیلات دستیاب ہونے پر اپ ڈیٹ کرے گا۔


اختیار ولی نے مبینہ طور پر دعویٰ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا (کے پی) اسمبلی کی جانب سے منظور کیا گیا نیا قانون، جو اس کے اراکین کو غیر معمولی مراعات اور قانون سازی کی استثنیٰ دیتا ہے، ایک عجیب بل ہے۔


خیبر پختونخوا (کے پی) اسمبلی کا نیا قانون، جو اس کے اراکین کو غیر معمولی مراعات اور قانون سازی کی استثنیٰ دیتا ہے، مبینہ طور پر اپوزیشن نے خاموشی سے قبول کر لیا ہے۔ اس بل میں اسمبلی اراکین کے لیے مختلف سہولیات شامل ہیں۔


حالیہ مباحث میں بلوچستان کی موجودہ صورتحال کو اجاگر کیا گیا ہے، جس میں اطلاعات کے مطابق پاک فوج نے وارننگ جاری کی ہے۔ تجزیہ کاروں نے بلوچستان میں ‘گریٹ گیم’ کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے ہیں، جس میں اسماء شیرازی جیسی شخصیات نے بھی گفتگو میں حصہ لیا ہے۔

پاکستان نیوز اس خبر کو مزید مصدقہ تفصیلات سامنے آنے پر اپ ڈیٹ کرے گا۔


ذرائع اور اپڈیٹس

[activity-stream-raw include=”88346,88387,88495,88459,88512,89037,89459,89476,89525,89540,89568,89569,89708,89711,89764,89766,89767,89825,89975,89994,90072,90139,90276,90289,90292,90294,90345″ per_page=20 display_comments=0 sort=DESC]

Responses

>