آیت اللہ خامنہ ای کی موت: جانشین کا اعلان، امریکی-اسرائیلی حملے میں خاندان کے دیگر افراد بھی جاں بحق
ایک نظر میں
- ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ تہران میں ادا کر دی گئی ہے۔
- اطلاعات کے مطابق آخری الوداعی تقریب میں شرکت کے لیے ایران بھر کی سڑکوں پر لاکھوں افراد جمع ہوئے۔
- ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، جنہوں نے 37 سال حکومت کی، کی آخری رسومات کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
مرکزی خبر
ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ تہران میں ادا کر دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق آخری الوداعی تقریب میں شرکت کے لیے ایران بھر کی سڑکوں پر لاکھوں افراد جمع ہوئے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، جنہوں نے 37 سال حکومت کی، کی آخری رسومات کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، خامنہ ای فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے ابتدائی فضائی حملوں کے دوران جاں بحق ہوئے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ جس حملے میں سپریم لیڈر جاں بحق ہوئے، اس میں ان کی بیٹی، پوتا/نواسا، بہو اور داماد بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ہفتے کے روز، ہزاروں سوگوار تہران کے ایک نماز کمپلیکس میں تابوتوں کا دیدار کرنے کے لیے جمع ہوئے۔ ان کے بیٹے، مجتبیٰ خامنہ ای، کو ان کا جانشین نامزد کیا گیا ہے۔
تہران میں بڑے جنازے کے اجتماعات کے بعد، ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حتمی تدفین 9 جولائی کو مشہد میں ہوگی۔
ذرائع: Samaa TV
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے میں لاکھوں افراد تہران میں جمع ہوئے ہیں، جسے جذباتی اور تاریخی مناظر قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک حتمی عوامی دیدار بھی کرایا گیا۔
ایرانی دارالحکومت میں جنازے کی کارروائی کے دوران، مبینہ طور پر ہجوم کو “انتقام” کے نعرے لگاتے اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کرتے سنا گیا۔
دریں اثنا، اس بارے میں سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ نماز جنازہ کی امامت کون کرے گا اور مرحوم رہنما کو کہاں دفن کیا جائے گا۔
ذرائع: HUM News Capital TV Dunya News
آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی ادائیگی کے موقع پر، اطلاعات کے مطابق تہران میں ہونے والی تقاریب میں 2 کروڑ سوگواروں کی شرکت متوقع تھی۔
ذرائع اور اپڈیٹس
Latest Activity

Responses