کرپٹو تنازع پر لاہور میں ڈچ اور وینزویلا کی خواتین مبینہ طور پر اغوا

زیرِ تکمیل خبر

ایک نظر میں

  • لاہور میں دو غیر ملکی خواتین سے متعلق کیس میں مبینہ طور پر مزید گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔
  • دوسری جانب، اس کیس نے ایک سیاسی موڑ اختیار کر لیا ہے، اطلاعات کے مطابق اختیار ولی نے اس تفتیش کے گرد ہونے والی بحث میں پی ٹی آئی کو بھی شامل کر لیا ہے۔
  • اتوار، 5 جولائی کو لاہور کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) آپریشنز، فیصل کامران نے بیان دیا کہ دو غیر ملکی خواتین کے اغوا اور تشدد کے مقدمے میں ایک ملزم، جس کا مبینہ طور پر ایک سینئر حکومتی وزیر سے تعلق ہے،…
اب تک کی صورتحال: لاہور میں دو غیر ملکی خواتین سے متعلق کیس میں مبینہ طور پر مزید گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔ دوسری جانب، اس کیس نے ایک سیاسی موڑ اختیار کر لیا ہے، اطلاعات کے مطابق اختیار ولی نے اس تفتیش کے گرد ہونے والی بحث میں پی ٹی آئی کو بھی شامل کر لیا ہے۔

مرکزی خبر

لاہور میں دو غیر ملکی خواتین سے متعلق کیس میں مبینہ طور پر مزید گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔ دوسری جانب، اس کیس نے ایک سیاسی موڑ اختیار کر لیا ہے، اطلاعات کے مطابق اختیار ولی نے اس تفتیش کے گرد ہونے والی بحث میں پی ٹی آئی کو بھی شامل کر لیا ہے۔


تازہ ترین اپڈیٹس

اتوار، 5 جولائی کو لاہور کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) آپریشنز، فیصل کامران نے بیان دیا کہ دو غیر ملکی خواتین کے اغوا اور تشدد کے مقدمے میں ایک ملزم، جس کا مبینہ طور پر ایک سینئر حکومتی وزیر سے تعلق ہے، کے ساتھ کسی بھی دوسرے مجرم جیسا سلوک کیا جائے گا۔ ڈی آئی جی نے یہ تبصرہ جاری تحقیقات کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔


لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور تشدد کے کیس میں ایک نئی پیش رفت میں، ڈی آئی جی فیصل کامران نے تحقیقات کی تفصیلات بتانے کے لیے ایک پریس کانفرنس کی ہے۔

اس کے علاوہ، رپورٹس میں اس کیس کے سلسلے میں “باس” کے نام سے مشہور ایک ملزم کی گرفتاری کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔


تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، اس ہائی پروفائل تشدد اور اغوا کے مقدمے کا مرکزی ملزم ابھی تک مفرور ہے۔


لاہور اغوا کیس میں ایک نئی پیشرفت میں، عقیل ملک نے تجویز دی ہے کہ تحقیقات پنجاب کے محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی سی ڈی) کے حوالے کر دی جائیں۔


تفتیش میں ہونے والی پیش رفت کے مطابق، پولیس نے لاہور میں مبینہ طور پر اغوا اور تشدد کا نشانہ بننے والی دونوں غیر ملکی خواتین کے بیانات قلمبند کر لیے ہیں۔


لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور تشدد کی تحقیقات میں مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ 4 جولائی کی رپورٹس کے مطابق، مرکزی ملزم رضا ڈار “دی باس” نامی ایک نامعلوم فرد سے رابطے میں تھا۔

اس کے علاوہ، سرکاری پولیس بیانات اور کیس کے دستیاب حقائق کے درمیان مبینہ تضادات پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔


4 جولائی کو ایک نئی پیشرفت میں، اظہر صدیق نے لاہور میں دو غیر ملکی خواتین پر تشدد کے کیس کی تحقیقات کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا پولیس کو بیرونی دباؤ کا سامنا ہے۔ اس کیس کو ملک کے نظام انصاف کے لیے ایک اہم امتحان بھی قرار دیا جا رہا ہے۔


ذرائع اور اپڈیٹس

Latest Activity

Related Articles

Responses

>