مرکزی خبر پر جائیں

اسلام آباد کو صوبہ نہیں، اسمبلی ملے گی، وزیر نے وضاحت کر دی

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: اسلام آباد کو صوبہ نہیں، اسمبلی ملے گی، وزیر نے وضاحت کر دی
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • پارلیمنٹ اکتوبر میں نئے انتظامی یونٹس بنانے پر بحث کرے گی۔
  • حکومت کی وضاحت: اسلام آباد کو صوبہ نہیں، قانون ساز اسمبلی ملے گی۔
  • یہ تجویز حکومتی اتحاد میں اختلافات کا باعث بنی ہے۔

اب تک کی صورتحال

پاکستان میں نئی انتظامی اکائیوں کی تشکیل پر بحث میں شدت آ گئی ہے، اور یہ معاملہ اکتوبر میں پارلیمنٹ میں زیر بحث آنا ہے۔ یہ بحث پنجاب میں جنوبی پنجاب اور بہاولپور سمیت نئے صوبوں کی تجاویز کے بعد شروع ہوئی۔ اس معاملے پر حکومتی اتحاد میں تقسیم پیدا ہو گئی ہے، مسلم لیگ (ن) پنجاب کی تقسیم کی مخالفت کر رہی ہے جبکہ پیپلز پارٹی نے نرمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ نے اپنے صوبے کی کسی بھی تقسیم کو مسترد کر دیا ہے۔ ایک اہم توجہ کا مرکز اسلام آباد کی حیثیت رہی ہے، جس پر حکومت نے اب واضح کیا ہے کہ وہ اسے مکمل صوبہ بنانے کے بجائے ایک نئے گورننس ماڈل کے تحت دارالحکومت کے لیے ایک قانون ساز اسمبلی قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد کو الگ صوبہ نہیں بنایا جائے گا۔ اس کے بجائے، دارالحکومت کے لیے قانون ساز اسمبلی کے قیام کے لیے ایک نیا گورننس ماڈل تجویز کیا جا رہا ہے، جبکہ اس کی وفاقی حیثیت برقرار رہے گی۔ نئے صوبوں پر بحث پارلیمنٹ کے اکتوبر کے اجلاس میں ہونی ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے جمعرات کو تصدیق کی ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل پر بحث قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اکتوبر میں ہونے والے اجلاسوں میں متوقع ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پارلیمان اس بحث کے لیے 'مناسب فورم' ہے، جبکہ انہوں نے وفاقی دارالحکومت کے لیے حکومتی منصوبے کی وضاحت بھی کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد ایک الگ صوبہ نہیں بنے گا۔ اس کے بجائے، ایک نیا گورننس ماڈل تجویز کیا جا رہا ہے جس میں اسلام آباد کی پہلی قانون ساز اسمبلی کا قیام شامل ہے جبکہ اس کی وفاقی حیثیت برقرار رہے گی۔ وزیر نے مزید کہا کہ اس نئے ماڈل کا مسودہ وزیراعظم کی جانب سے مقرر کردہ پانچ رکنی کمیٹی نے تیار کر لیا ہے۔

نئے صوبوں کی تشکیل پر قومی بحث میں مزید تجاویز اور بدلتی ہوئی سیاسی پوزیشنوں کے ساتھ شدت آگئی ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اب اس معاملے پر ایک تجویز پیش کی ہے۔ خاص طور پر وفاقی دارالحکومت کے لیے، 27 رکنی اسلام آباد اسمبلی کا منصوبہ مبینہ طور پر زیر غور ہے۔ دریں اثنا، اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے نئی انتظامی اکائیوں کے قیام کے حوالے سے اپنا مؤقف تبدیل کر لیا ہے۔ مزید برآں، طلبہ تنظیموں نے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

وفاقی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل پر بحث پارلیمنٹ میں ہوگی۔ توقع ہے کہ یہ بحث اکتوبر میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں باضابطہ طور پر پیش کی جائے گی۔

دریں اثنا، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی اس معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے صوبہ سندھ کی تقسیم کے امکان پر بات کی ہے۔

الگ سے، اطلاعات کے مطابق اسلام آباد کو صوبہ بنانے کے لیے مخصوص تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے، جس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ نے ایک فارمولے کا ذکر کیا ہے جس میں 28 مربع کلومیٹر کا علاقہ اور 21 اراکین صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) شامل ہیں۔

گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے انتظامی تنظیم نو پر جاری بحث میں شامل ہوتے ہوئے تجویز دی ہے کہ جنوبی پنجاب اور بہاولپور کو آزمائشی بنیادوں پر صوبے بنایا جائے۔ گورنر نے ملک میں نئے صوبے بنانے کی وسیع تر بحث میں اس نقطہ نظر کو پہلے قدم کے طور پر تجویز کیا ہے۔

وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ نئے انتظامی صوبوں کی تشکیل کا معاملہ اکتوبر میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں باضابطہ طور پر زیر بحث لایا جائے گا۔ یہ پیشرفت مسلم لیگ (ن) کے رہنما طارق فضل چوہدری کے اس بیان کے بعد ہوئی ہے کہ ستمبر میں اس معاملے پر کوئی پارلیمانی اجلاس نہیں ہوگا۔

سیاستدان محمد علی درانی نے انتظامی اصلاحات پر جاری قومی بحث میں اپنی آواز شامل کرتے ہوئے عوامی سطح پر کہا ہے کہ پاکستان کو نئے صوبوں کی ضرورت ہے۔

نئے انتظامی صوبوں کی تشکیل کے گرد جاری سیاسی بحث میں ایک نیا موڑ آیا ہے، نئی رپورٹس میں اسلام آباد کو ایک علیحدہ صوبہ کے طور پر قائم کرنے کے امکان کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس بحث میں اب وفاقی دارالحکومت کی حیثیت میں ممکنہ تبدیلی بھی شامل ہو گئی ہے، جس نے قومی گفتگو میں ایک نئی جہت کا اضافہ کیا ہے۔

نئے انتظامی صوبوں کی تشکیل پر جاری قومی بحث میں ایک اور اہم قانونی اور سیاسی شخصیت نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے، اطلاعات کے مطابق سلمان اکرم راجہ نے اس معاملے پر ایک بیان جاری کیا ہے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Dawn News

Parliament to debate new provinces next month, says minister

Parliamentary Affairs Minister Tariq Fazal Chaudhry said on Thursday that parliament was expected to debate the issue of new provinces next month. Addressing the corporate sector in late July, Interior Minister Mohsin Naqvi had called for the creatio

GNN
GNN
GNN
Dawn News

New provinces not only way to improve governance: Gohar

PESHAWAR: Calling for caution in decisions regarding the creation of new provinces , PTI Interim Chairman Barri­ster Gohar Ali Khan on Wednesday war­ned that any step taken in haste and without consensus could harm the federation. “Good governance is

GNN
GNN
Nawai Waqt

کیا آئین میں درج طریقۂ کار کو ریفرنڈم ختم کرسکتا ہے؟ پلوشہ خان

حکمران اتحاد میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینیٹر پلوشہ خان نے استفسار کیا ہے کہ کیا آئین میں درج طریقہ کار کو ریفرنڈم ختم کرسکتا ہے؟ جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں سینیٹر پلوشہ خان، وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک اور پی ٹی ا

Nawai Waqt

نئے صوبوں کی بجائے نظام کی خرابیوں پر بحث ہونی چاہیے: بلاول بھٹو

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث کو پارلیمنٹ میں لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ توجہ نئے صوبے بنانے کے بجائے نظام کی خرابیوں اور اس کے ممکنہ طور پر ناکام ہونے کے خطرے پر ہونی چاہیے۔

GNN
GNN

Responses

>