ٹرمپ انتظامیہ کی H-1B ویزا ہولڈرز کے لیے 60 دن کی رعایتی مدت ختم کرنے کی تجویز
ایک نظر میں
- امریکہ نے ملازمت ختم ہونے کے بعد H-1B ویزا ہولڈرز کے لیے 60 دن کی رعایتی مدت ختم کرنے کی تجویز دی ہے۔
- متاثرہ کارکنوں کو ملازمت ختم ہوتے ہی فوری طور پر امریکہ چھوڑنا پڑے گا۔
- یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے قانونی امیگریشن کو محدود کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔
اب تک کی صورتحال
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے ملازمت سے محروم ہونے والے H-1B ویزا ہولڈرز کے لیے 60 دن کی رعایتی مدت ختم کرنے کی تجویز شائع کی ہے۔ 2017 سے نافذ یہ رعایتی مدت غیر ملکی کارکنوں کو نیا اسپانسر تلاش کرنے یا اپنی روانگی کا بندوبست کرنے کا وقت دیتی ہے۔ مجوزہ تبدیلی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے قانونی امیگریشن کو محدود کرنے کے اقدامات کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے، جس میں ویزا فیسوں میں اضافہ اور کچھ ویزا اپائنٹمنٹس پر پابندی بھی شامل ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
ٹرمپ انتظامیہ نے H-1B اور دیگر عارضی ورک ویزا ہولڈرز کے لیے 60 دن کی رعایتی مدت ختم کرنے کے لیے قانون میں تبدیلی کی تجویز دی ہے۔ اگر یہ قانون نافذ ہو گیا تو ملازمت سے محروم ہونے والے کارکنوں کو فوری طور پر امریکہ چھوڑنا پڑے گا، یہ ایک ایسا اقدام ہے جو غیر ملکی ٹیلنٹ پر انحصار کرنے والی ٹیک کمپنیوں کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتا ہے۔
ذرائع اور اپڈیٹس
Trump administration proposes waiving grace period for H-1B holders after job loss
The Trump administration has proposed eliminating a 60-day grace period that allows certain immigrants, including skilled workers on H-1B visas, to stay in the United States and find a new sponsor after losing their job, according to a government not
Trump administration proposes waiving grace period for H-1B holders after job loss
WASHINGTON: The Trump administration has proposed eliminating a 60-day grace period that allows certain immigrants, including skilled workers on H-1B visas, to stay in the United States and find a new sponsor after losing their job, according to a go
Responses