بڑھتی ہوئی امریکی کشیدگی کے دوران ایران کے اسماعیل بقائی کا بیان سامنے آگیا
ایک نظر میں
- خلیجی خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔
- اطلاعات کے مطابق ایران کے اسماعیل بقائی نے تنازع کے حوالے سے بیان جاری کیا ہے۔
- یہ صورتحال ایرانی ٹینکرز پر امریکی حملوں اور امریکی اڈوں پر مبینہ ایرانی حملوں کے بعد پیدا ہوئی ہے۔
اب تک کی صورتحال
خلیجی خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ڈرامائی طور پر بڑھ گئی ہے۔ صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب امریکی افواج نے پانچ ایرانی آئل ٹینکرز کو تباہ کر دیا، اور کہا کہ یہ امریکی بحری جہاز پر ایران کے IRGC کے ناکام میزائل حملوں کا جواب تھا۔ اس کے بعد، خطے میں امریکی فضائی اڈوں پر بھاری ایرانی حملے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ جاری بحران کے دوران، 10 ستمبر کی رپورٹس کے مطابق، اب ایران کے اسماعیل بقائی کی جانب سے تنازع کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے دوران، اطلاعات ہیں کہ ایران کے اسماعیل بقائی نے مشرق وسطیٰ میں تنازعے کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
10 ستمبر کو دستیاب رپورٹس کے مطابق، بڑھتے ہوئے تنازع کے دوران ایران کے اسماعیل بقائی کی جانب سے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے۔
10 ستمبر کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے خلیجی خطے میں امریکی ہوائی اڈوں پر شدید حملہ کیا ہے، جو جاری تنازع میں ایک اہم شدت کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ پیشرفت دونوں ممالک کے درمیان جاری محاذ آرائی کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس دعوے کی ابھی تک آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
پاکستان نیوز مزید تصدیق شدہ تفصیلات دستیاب ہونے پر اس خبر کو اپ ڈیٹ کرے گا۔
خلیج میں کشیدگی میں مبینہ طور پر مزید اضافہ ہوا ہے، 9 ستمبر کی نئی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ دعوے 10 امریکی بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کی پہلے کی غیر مصدقہ اطلاعات کے بعد سامنے آئے ہیں۔
دستیاب معلومات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ امریکہ نے جوابی حملے کیے ہیں۔ بڑھتے ہوئے تنازعے کی وجہ سے مبینہ طور پر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور پاکستان-سعودی-ترکیہ معاہدے جیسے علاقائی اتحاد شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ان دعوؤں کی ابھی تک آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
پاکستان نیوز مزید تصدیق شدہ تفصیلات دستیاب ہونے پر اس خبر کو اپ ڈیٹ کرے گا۔
9 ستمبر کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے 10 امریکی بحری جہازوں پر حملہ کیا ہے، جس سے خلیجی خطے میں امریکہ کے ساتھ فوجی کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے، اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے جواب کا انتظار ہے۔
یہ پیشرفت ایران کے جزیرہ خرگ اور بندرگاہ جاسک کے قریب پانچ ایرانی آئل ٹینکرز کے خلاف امریکی کارروائی کے بعد ہوئی ہے، جس کے بارے میں امریکی حکام کا کہنا تھا کہ یہ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کی جانب سے ایک امریکی بحری جنگی جہاز پر دو ناکام بیلسٹک میزائل حملوں کا بدلہ تھا۔
رپورٹس کے مطابق 9 ستمبر کو ایران نے اب امریکی جنگی جہازوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ دعویٰ ایران کے اسلامی پاسداران انقلاب کور (IRGC) کی جانب سے امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی سابقہ دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے۔
ایرانی دعوے کے جواب میں، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے مبینہ طور پر ایک بیان جاری کیا ہے۔ اس بیان بازی سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
9 ستمبر کی اطلاعات کے مطابق، ایک اہم جوابی کارروائی میں ایران کی اسلامی پاسداران انقلاب (IRGC) نے مبینہ طور پر 10 جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔
یہ کارروائی امریکہ کی جانب سے جزیرہ خارک اور بندرگاہ جاسک کے قریب پانچ ایرانی آئل ٹینکرز کو تباہ کرنے کے پہلے کے حملوں کے جواب میں سمجھی جاتی ہے۔ IRGC نے امریکی کارروائی کے بعد انتقامی کارروائی کا سخت انتباہ جاری کیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے واضح کیا ہے کہ اس کی جانب سے پانچ ایرانی خام تیل کے ٹینکروں پر حملے گزشتہ دو روز کے دوران ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کی جانب سے ایک امریکی بحری جنگی جہاز پر دو ناکام بیلسٹک میزائل حملوں کا براہ راست جواب تھے۔
سینٹ کام کے ایک بیان کے مطابق، امریکی جنگی جہاز نے دونوں کوششوں کے خلاف کامیابی سے اپنا دفاع کیا اور علاقائی پانیوں میں گشت جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان واقعات میں کوئی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے تصدیق کی ہے کہ اس کی افواج نے پانچ ایرانی خام تیل کے ٹینکرز کو تباہ کر دیا ہے۔ اس پیشرفت نے آبنائے ہرمز کے خطے میں حالیہ امریکی حملوں میں نشانہ بنائے گئے جہازوں کی مخصوص تعداد فراہم کی ہے۔
ذرائع اور اپڈیٹس
امریکی افواج نےخام تیل لےجانےوالے5 ایرانی جہازتباہ کردیے
امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فورسز نے 5 ایرانی خام تیل بردار جہاز تباہ کر دیے۔
یہ ڈرون والا معاملہ بھی دلچسپ ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آج کل تنازعات صرف بحری جہازوں اور میزائلوں تک محدود نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی اور سائبر اسپیس میں بھی لڑے جا رہے ہیں۔ اس سے غلط فہمیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
یہ بات تشویشناک ہے کہ تصدیق شدہ معلومات حاصل کرنا کتنا مشکل ہے۔ دونوں فریق اپنا اپنا بیانیہ پیش کر رہے ہیں۔ اس معلوماتی دور میں حقیقت کو پروپیگنڈے سے الگ کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔
یہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے ڈرون کھو جانے کا دعویٰ بھی اہم ہے۔ ایسے کشیدہ ماحول میں، ایک معمولی تکنیکی خرابی اور سائبر حملے میں فرق کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس سے غلط فہمی کی بنا پر تنازعہ بڑھنے کا شدید خطرہ ہے۔
Yeh khittay mein tijarti jahazrani ke liye bohat khatarnaak surat-e-haal hai. Strait of Hormuz se guzarne wali ships ke insurance premiums yaqeenan barh jayenge, jis se hum sab ke liye cheezain mehengi ho sakti hain.
Agreed. This highlights our vulnerability to oil supply disruptions from the region. It’s a strong argument for accelerating our move towards local renewable energy for greater security.
Yahan per independent tech-based verification ki ahmiyat bohot barh jaati hai. Commercial satellite imagery aur OSINT analysts aksar donon taraf ke official statements se ziyada neutral tasveer pesh kar saktay hain.