پیٹرولیم لیوی پر جماعت اسلامی کے احتجاج کو فضل الرحمان اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی حمایت حاصل
ایک نظر میں
- جے یو آئی (ف) کے سربراہ فضل الرحمان نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج کی حمایت کی۔
- وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بھی تحریک کی حمایت کا اظہار کیا۔
- سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے احتجاجی دھرنے کا دورہ کیا۔
اب تک کی صورتحال
حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں جماعت اسلامی گزشتہ 25 دنوں سے پیٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے مہنگے ایندھن کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔ پارٹی حکومت کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے اور چھ نکاتی تجاویز پیش کر چکی ہے۔ مذاکرات جاری رہنے کے باوجود، جماعت اسلامی نے خبردار کیا ہے کہ اگر پیر تک ریلیف نہ ملا تو وہ اسلام آباد کی طرف مارچ کرے گی۔ اس تحریک کو اب جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی عوامی حمایت حاصل ہو گئی ہے اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی دھرنے کا دورہ کیا ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
جماعت اسلامی کے پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج کو جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔ دریں اثنا، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی پارٹی کے دھرنے کا دورہ کیا۔
تازہ ترین اپڈیٹس
پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی جاری مہم کو دیگر سیاسی شخصیات کی حمایت بھی حاصل ہو گئی ہے، جن میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی شامل ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے دونوں رہنماؤں سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔ بات چیت کے بعد مولانا فضل الرحمان نے جماعت اسلامی کی تحریک کی حمایت کا اعلان کیا۔ وزیر اعلیٰ آفریدی نے بھی عوامی مسائل پر جماعت اسلامی کی جمہوری جدوجہد کو سراہا اور وفاقی حکومت سے ریلیف فراہم کرنے پر زور دیا۔
اس کے علاوہ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی جماعت اسلامی کے احتجاجی دھرنے کا دورہ کیا۔
حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد، جماعت اسلامی (جے آئی) نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایندھن کی قیمتوں میں ریلیف کے اس کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرے گی۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے تصدیق کی کہ پارٹی نے حکومت کو چھ نکاتی تجاویز پیش کی ہیں۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت نے پارٹی سے لانگ مارچ کی حتمی کال پیر تک مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے حکومتی ردعمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس ''آئیں بائیں شائیں کے سوا کوئی جواب نہیں۔'' انہوں نے اس انتباہ کا اعادہ کیا کہ اگر حکومت ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہی تو ملک بھر سے دھرنے دارالحکومت کی طرف مارچ کریں گے۔
جمعرات، 10 ستمبر کو جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات جاری رہنے پر حکومت نے پیٹرولیم لیوی سے متعلق حتمی فیصلے کے لیے مزید تین دن کی مہلت طلب کر لی ہے۔
جمعرات، 10 ستمبر کو دستیاب رپورٹس کے مطابق، حکومت اور جماعت اسلامی (JI) کے درمیان پیٹرولیم لیوی پر جاری مذاکرات سے ایک بڑے فیصلے کی توقع ہے۔
حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان جاری مذاکرات سے مزید تفصیلات سے معلوم ہوا ہے کہ بات چیت پیٹرولیم لیوی کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے اس میں کمی کی تجاویز پر مرکوز ہے، جیسا کہ پہلے رپورٹ کیا گیا تھا۔
جمعرات، 10 ستمبر کو موصولہ اطلاعات کے مطابق، جماعت اسلامی کا ایک وفد حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے پنجاب ہاؤس پہنچ گیا ہے۔ ملاقات کا محور پارٹی کا پیٹرولیم لیوی کے خلاف جاری احتجاج ہے۔
جمعرات، 10 ستمبر کو موصولہ اطلاعات کے مطابق، ایک حکومتی وفد نے جماعت اسلامی (JI) کے رہنماؤں سے مذاکرات کیے ہیں۔ یہ ملاقات جماعت اسلامی کے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے پر جاری احتجاج کے دوران ہوئی ہے۔
کئی ہفتوں کے احتجاج کے بعد ایک بڑی پیش رفت میں، وفاقی حکومت نے مبینہ طور پر پٹرولیم لیوی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 10 ستمبر کو دستیاب معلومات کے مطابق، اس ٹیکس کے فوری خاتمے کے لیے وزارت پٹرولیم کو ایک خط جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ اقدام جماعت اسلامی (جے آئی) کی جانب سے ایندھن کی بلند قیمتوں کے خلاف 25 روزہ احتجاج کے بعد سامنے آیا ہے۔
مہنگائی اور پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف جماعت اسلامی (جے آئی) کا احتجاج 25ویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ 10 ستمبر کو پارٹی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے مذاکرات میں حکومت کی جانب سے عدم سنجیدگی پر تنقید کی۔
اطلاعات کے مطابق، جے آئی کے امیر نے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ سے بھی رابطہ کیا ہے تاکہ موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے، جو کہ اے این پی کی جانب سے احتجاجی تحریک کی سابقہ حمایت پر مبنی ہے۔
مہنگائی کے خلاف جاری احتجاج میں اس وقت مزید شدت آگئی جب 9 ستمبر کو سامنے آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا کہ گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 48 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے۔
جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبات تسلیم نہ ہونے پر 10 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ حافظ نعیم الرحمٰن کی قیادت میں پارٹی مبینہ طور پر مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج کے سلسلے میں 25 روز سے دھرنا دیے ہوئے ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما ایمل ولی خان نے مہنگائی اور ایندھن کی بلند قیمتوں کے خلاف جماعت اسلامی کے جاری ملک گیر احتجاج میں شامل ہونے کی دعوت قبول کر لی ہے، جو اس مہم میں ایک اہم سیاسی پیشرفت ہے۔
جماعت اسلامی (JI) نے حکومت کو پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن میں توسیع کر دی ہے۔ پارٹی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے 9 ستمبر کو اعلان کیا کہ نئی تاریخ 10 اکتوبر ہے۔
پارٹی نے مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کی دھمکی برقرار رکھی ہے۔
ایک ریلی سے خطاب میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پارٹی کا احتجاج ملک کے 32 شہروں تک پھیل گیا ہے جہاں دھرنے جاری ہیں۔ یہ اعلان حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 13 روپے فی لیٹر اضافے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔
حافظ نعیم نے اسے 'جبری ٹیکس' قرار دیتے ہوئے تنقید کی اور کہا کہ حکومت پٹرولیم لیوی کی مد میں 85 روپے فی لیٹر وصول کر رہی ہے، جبکہ پٹرول پر کل ٹیکس تقریباً 130 روپے فی لیٹر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پارٹی کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ 10 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کی 'حتمی کال' دیں گے جس کا مقصد 'ظالم حکومت' کا خاتمہ ہے۔
جماعت اسلامی (جے آئی) نے حکومت کو دھمکی دی ہے کہ اگر 10 ستمبر تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے اس کی تجاویز کو قبول نہ کیا گیا تو وہ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرے گی۔
یہ اعلان امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے گورنر ہاؤس کراچی کے باہر جاری دھرنے کے 24 ویں روز کیا، جو پیٹرول لیوی کے خلاف جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو 10 ستمبر کو ڈی چوک اسلام آباد کی جانب مارچ کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔
حافظ نعیم نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین نے دھرنے کی حمایت کی ہے اور شرکت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس کے علاوہ، راولپنڈی میں بھی مہنگائی کے خلاف ایک نئے دھرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ذرائع اور اپڈیٹس
جماعت اسلامی کی پیٹرولیم لیوی کےخلاف تحریک کی حمایت کرتے ہیں، فضل الرحمان
جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی۔
حکومت ریلیف نہیں دیتی تو دھرنے اسلام آباد کی طرف چل پڑیں گے: لیاقت بلوچ
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت نے پیر تک لانگ مارچ کی حتمی کال موخر کرنے کا کہا ہے، اگر حکومت ریلیف نہیں دیتی تو دھرنے ملک بھر سے اسلام آباد کی طرف چل پڑیں گے۔
JI sets Sept 10 deadline for petroleum levy withdrawal
KARACHI: The political pressure on the government intensified on Tuesday as Jamaat-i-Islami (JI) set September 10 as a deadline for the withdrawal of the petroleum levy warning that failure to meet the demand could lead to a long march on Islamabad.
حکومت نے تجاویز نہ مانیں تو اسلام آباد مارچ ہو گا: حافظ نعیم
کراچی؍ لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ خصوصی نامہ نگار) پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس کی ظالمانہ وصولی، آئی پی پیز کے عوام دشمن معاہدوں کے خلاف گورنر ہاؤس کراچی پر جاری دھرنے کے 24ویں روز عظیم الشان جلسہ عام منعقد کیا گیا۔
پیٹرول قیمت کم ہوئی تو ٹھیک ورنہ ہم بہت آگے کا پلان رکھتے ہیں، حافظ نعیم الرحمان
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت پیٹرول کی قیمت کم کرتی ہے تو ٹھیک، ورنہ ہم بہت آگے کا پلان رکھتے ہیں۔
جماعت اسلامی سے مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ جمعرات کو ہوگا، احسن اقبال
وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ کچھ قومی معاشی حقیقتوں سے انکار نہیں ہوسکتا ہے۔
JI submits six proposals as first round of talks with govt concludes
ISLAMABAD: The first round of talks between Jamaat-i-Islami and the federal government on abolishing the petroleum levy and providing relief to the public concluded in Islamabad on Monday, with the party submitting six key proposals to the government
Responses