مرکزی خبر پر جائیں

تجزیہ کار کا انتباہ، پیٹرول کی قیمت 600 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: تجزیہ کار کا انتباہ، پیٹرول کی قیمت 600 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • پاکستان میں حال ہی میں پیٹرول کی قیمت میں متعدد بار اضافہ ہوا ہے۔
  • تجزیہ کاروں نے اب خبردار کیا ہے کہ قیمت 600 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے۔
  • ریٹیل فیول کی قیمت میں ٹیکسوں کا بڑا حصہ شامل ہے۔

اب تک کی صورتحال

پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں حال ہی میں کئی اضافے ہوئے ہیں، جس سے عوام پر مالی بوجھ بڑھا ہے۔ تازہ ترین اضافے سے قبل پیٹرول کی قیمت 367.75 روپے فی لیٹر تھی۔ سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ایندھن کی قیمت کا ایک بڑا حصہ ٹیکسوں اور لیویز پر مشتمل ہے۔ ان اضافوں کے دوران، تجزیہ کاروں نے مزید ممکنہ اضافے کے بارے میں انتباہ جاری کیے ہیں، ابتدائی طور پر قیمت 500 روپے فی لیٹر تک پہنچنے کی پیشین گوئیاں اب 600 روپے تک پہنچنے کے خدشات میں بدل گئی ہیں۔

تازہ ترین پیش رفت

حالیہ رپورٹس کے مطابق، تجزیہ کار جاوید چوہدری نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 600 روپے فی لیٹر تک بڑھ سکتی ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

دستیاب رپورٹس کے مطابق، تجزیہ کار جاوید چوہدری نے اب تجویز دی ہے کہ پیٹرول کی قیمت 600 روپے فی لیٹر تک بڑھ سکتی ہے۔ یہ پیشین گوئی اس سے قبل 500 روپے فی لیٹر تک پہنچنے کے اندازوں کے بعد سامنے آئی ہے۔

ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر جاری عوامی تشویش کے دوران، ایک تجزیہ کار نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 500 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے۔ اس انتباہ میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے مقامی ایندھن کی قیمتوں پر پڑنے والے ممکنہ مستقبل کے اثرات کو اجاگر کیا گیا ہے۔

عوام پر مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھاتے ہوئے گزشتہ تین دنوں میں پیٹرول کی قیمت میں 22 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہوگیا ہے۔

یہ تازہ ترین اضافہ اس وسیع رجحان کا حصہ ہے جس میں گزشتہ 10 دنوں کے دوران پیٹرول کی قیمتوں میں 25 روپے فی لیٹر تک کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 10 ستمبر کو ہونے والا اضافہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی مسلسل آٹھواں اضافہ تھا۔

ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد، اطلاعات کے مطابق گزشتہ 10 دنوں میں پیٹرول کی قیمت میں 25 روپے فی لیٹر تک کا اضافہ ہوا ہے۔ مسلسل اضافے سے خوراک، ٹرانسپورٹ اور یوٹیلیٹی بلوں کی لاگت میں اضافے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

دریں اثنا، جماعت اسلامی ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف مسلسل احتجاج کر رہی ہے۔ عوام بجلی اور گیس کے بحران پر بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، جس سے مالی دباؤ میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

بڑھتی ہوئی پیٹرولیم قیمتوں پر غور کے لیے ایک اہم اجلاس متوقع ہے۔ مسلسل قیمتوں میں اضافے کے جواب میں، عوام کے کچھ افراد مبینہ طور پر پیسے بچانے کے لیے بسوں کا رخ کر رہے ہیں۔ رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ پاکستان میں اب جنوبی ایشیا میں سب سے مہنگا پیٹرول ہے۔

حکومت نے 10 ستمبر سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک اور اضافہ نافذ کر دیا ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں یہ مسلسل آٹھواں اضافہ ہے۔

حکومت نے 10 ستمبر 2026 سے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں ایک اور نمایاں اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ فی لیٹر کی نئی قیمتوں کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس سے پہلے سے ہی ایندھن کی ریکارڈ بلند قیمتوں کا سامنا کرنے والی عوام پر مالی بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔

قیمتوں میں یہ تازہ ترین اضافہ گزشتہ دو ماہ کے دوران ہونے والے متعدد اضافوں کے بعد ہوا ہے، جس کی وجہ بھاری ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی بتائی جاتی ہے۔ دستیاب رپورٹس میں ابھی تک نئی قیمتوں کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، پیٹرول کی خوردہ قیمت 367.75 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت اب 392.67 روپے فی لیٹر ہے۔ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ ایک لیٹر پیٹرول کی اصل لاگت 234.73 روپے ہے، جبکہ صارفین مختلف لیویز، ٹیکسز اور مارجن کی مد میں اضافی 131.60 روپے ادا کر رہے ہیں۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل پر صارفین سے اضافی 122.55 روپے فی لیٹر وصول کیے جا رہے ہیں۔ 7 ستمبر سے اب تک پیٹرول کی قیمت میں 21.88 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 14.62 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

  1. یہ بار بار کی قیمتوں میں اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمیں درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی کتنی ضرورت ہے۔ ہمیں مقامی اور قابل تجدید توانائی کے متبادل پر سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔

>