رپورٹ: بھارت میں 861 مسلم املاک منہدم، زیادہ تر کارروائیاں بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں ہوئیں
ایک نظر میں
- کے ایم ایس رپورٹ کا دعویٰ ہے کہ بھارت میں تین سالوں میں 861 مسلم املاک منہدم کی گئیں۔
- مبینہ طور پر انہدام کی کارروائیاں زیادہ تر بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں جیسے اتراکھنڈ اور اتر پردیش میں ہوئیں۔
- رپورٹ میں ان کارروائیوں کے لیے 'وقف ترمیمی ایکٹ 2025' کو ایک آلہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
اب تک کی صورتحال
کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کی ایک رپورٹ میں بھارت میں مسلم شناخت کے خلاف منظم مہم کا الزام لگایا گیا ہے، جس کے لیے ''وقف ترمیمی ایکٹ 2025'' کو ایک بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں اب دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں 861 مساجد، مزارات، مدارس اور عیدگاہیں منہدم کی جا چکی ہیں، خاص طور پر بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں جیسے اتراکھنڈ اور اتر پردیش میں۔ رپورٹ میں قدیم مساجد کے انہدام اور 1000 سال پرانی گنج شہیدہ مسجد کو انہدام کا نوٹس جاری کرنے جیسے مخصوص واقعات کا حوالہ دیا گیا ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کی ایک تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران بھارت میں منہدم کی گئی مسلم مذہبی و ثقافتی املاک کی تعداد 861 ہو گئی ہے۔ رپورٹ میں ریاست وار تفصیلات فراہم کی گئی ہیں، اور کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں بنیادی طور پر بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں ہوئیں۔
تازہ ترین اپڈیٹس
کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کی ایک تازہ تحقیقاتی رپورٹ میں بھارت میں مسلم املاک کے انہدام کے نئے اعداد و شمار فراہم کیے گئے ہیں، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں کل تعداد 861 تک پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ میں اب ''وقف ترمیمی ایکٹ 2025'' کا حوالہ دیا گیا ہے جسے قانونی آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں مبینہ انہدام کی ریاست وار تفصیلات فراہم کی گئی ہیں، جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں بنیادی طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زیر اقتدار ریاستوں میں ہو رہی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، اتراکھنڈ میں 572 مزارات منہدم کیے گئے۔ اتر پردیش میں مبینہ طور پر 35 مساجد، 225 مدارس، 25 مزارات اور 6 عیدگاہیں منہدم کی گئیں۔ دیگر ریاستوں میں مہاراشٹر (5 مساجد)، گجرات (4)، راجستھان (5) اور آسام (5) شامل ہیں۔
کے ایم ایس کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مسلم کمیونٹی کے شدید احتجاج کے باوجود 1000 سالہ قدیم تاریخی 'گنج شہیدہ مسجد' کے لیے انہدام کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
ذرائع اور اپڈیٹس
ودی حکومت میں مسلم شناخت مٹانے کے لیے منظم کارروائیاں، تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ گئی
بھارت میں نریندر مودی کے دورِ اقتدار میں مسلمانوں کی مذہبی اور ثقافتی شناخت کو ایک منظم منصوبے کے تحت مٹانے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
This is deeply troubling to read. To think of a 1,000-year-old mosque facing demolition is a tragedy for shared history, not just for one community. Heritage sites should be protected everywhere.
I agree. The report mentions a ‘Waqf Amendment Act 2025’. Is that a typo in the date? It’s hard to understand the legal basis for these actions without more verified information.