آبنائے ہرمز پر ایرانی فیصلہ، پاکستان اور چین پر ممکنہ اثرات
ایک نظر میں
- ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ عالمی تجارت کے لیے ایک اہم آبی گزرگاہ، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں پر سروس فیس وصول کرے گا۔اطلاعات کے مطابق یہ اعلان ایرانی سفیر نے کیا۔
- نئی فیس کے ساتھ ساتھ، ایران نے آبنائے سے متعلق ایک غیر متعین بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی کے خلاف سخت انتباہ بھی جاری کیا ہے۔
- آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے نئے انتظامات یا ممکنہ ٹول سسٹم سے متعلق ایران کے تازہ ترین بیانات نے مبینہ طور پر عالمی تشویش کو جنم دیا ہے۔
مرکزی خبر
ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ عالمی تجارت کے لیے ایک اہم آبی گزرگاہ، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں پر سروس فیس وصول کرے گا۔
اطلاعات کے مطابق یہ اعلان ایرانی سفیر نے کیا۔ نئی فیس کے ساتھ ساتھ، ایران نے آبنائے سے متعلق ایک غیر متعین بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی کے خلاف سخت انتباہ بھی جاری کیا ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے نئے انتظامات یا ممکنہ ٹول سسٹم سے متعلق ایران کے تازہ ترین بیانات نے مبینہ طور پر عالمی تشویش کو جنم دیا ہے۔
ذرائع: Such News Dunya News
مزید تفصیلات سے معلوم ہوا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے سروس فیس کے حوالے سے اعلان چین میں تعینات ایرانی سفیر نے کیا ہے۔
ذرائع: GNN Dunya News
آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے لیے سروس فیس نافذ کرنے کے ایران کے فیصلے پر مزید رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ چین اور دیگر دوست ممالک کو خصوصی رعایتیں دی جائیں گی۔
ذرائع: Samaa TV
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر سروس فیس عائد کرنے کے ایرانی منصوبے کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ بیجنگ میں ورلڈ پیس فورم سے خطاب کرتے ہوئے چین میں ایرانی سفیر عبدالرضا رحمانی فضلی نے کہا کہ فیس کا مقصد میری ٹائم سیکیورٹی کو بڑھانا، جہازوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کرنا اور شپنگ کے ماحولیاتی اثرات سے نمٹنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسے ٹرانزٹ ٹول نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
سفیر نے تصدیق کی کہ ایران آبنائے میں جہاز رانی کے لیے ایک نیا فریم ورک قائم کرنے کے لیے عمان کے ساتھ رابطہ کاری کر رہا ہے، جو ان کے بقول ایران کے علاقائی پانیوں میں آتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ حالیہ تنازعے کے دوران تہران کے ساتھ دوستانہ تعلقات برقرار رکھنے والے ممالک کو ترجیحی سلوک مل سکتا ہے۔
یہ پیشرفت ایران اور امریکہ کے درمیان 60 روزہ عارضی معاہدے کے بعد ہوئی ہے، جس کے تحت تنازعے کے بعد تجارتی جہازوں کو بغیر کسی چارج کے گزرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس تنازعے کے دوران ایران نے آبی گزرگاہ کو بند کر دیا تھا، جس سے عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ اس عارضی انتظام کے خاتمے کے بعد کون سے قوانین لاگو ہوں گے۔
ذرائع: Pakistan Observer
ذرائع اور اپڈیٹس
[activity-stream-raw include=”85292,85311,85273,85448,85600,85664,85687,85715,85855,85861,85906,86155,86184,86283″ per_page=20 display_comments=0 sort=DESC]
Responses