لاہور میں کرپٹو تنازع پر ڈچ اور وینزویلا کی خواتین کا مبینہ اغوا
ایک نظر میں
- ایک نئی پیشرفت میں، لاہور میں مبینہ تشدد اور اغوا کے مقدمے کا سامنا کرنے والی دونوں غیر ملکی خواتین پاکستان سے اپنے آبائی ملک روانہ ہو گئی ہیں۔اس کے علاوہ، رانا ثناء اللہ نے بھی اس کیس کے حوالے سے ایک بیان…
- لاہور میں دو غیر ملکی خواتین پر مبینہ تشدد اور بھتہ خوری کے کیس میں مزید گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔
- اس کے علاوہ، نئی اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ کیس میں ملوث غیر ملکی خواتین کی جانب سے ایک "چونکا دینے والا انکشاف" سامنے آیا ہے، تاہم مخصوص تفصیلات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
مرکزی خبر
ایک نئی پیشرفت میں، لاہور میں مبینہ تشدد اور اغوا کے مقدمے کا سامنا کرنے والی دونوں غیر ملکی خواتین پاکستان سے اپنے آبائی ملک روانہ ہو گئی ہیں۔
اس کے علاوہ، رانا ثناء اللہ نے بھی اس کیس کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
لاہور میں دو غیر ملکی خواتین پر مبینہ تشدد اور بھتہ خوری کے کیس میں مزید گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ، نئی اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ کیس میں ملوث غیر ملکی خواتین کی جانب سے ایک “چونکا دینے والا انکشاف” سامنے آیا ہے، تاہم مخصوص تفصیلات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
لاہور میں دو غیر ملکی خواتین سے متعلق کیس میں ایک نئی پیش رفت ہوئی ہے، جس میں دوسری متاثرہ خاتون نے بھی ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا ہے۔
ذرائع: ARY News
جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرائے گئے حلفی بیان میں، دونوں غیر ملکی خواتین—ایک ڈچ اور ایک وینزویلا کی شہری—نے اپنی آزمائش کی تفصیلی روداد بیان کی ہے۔ خواتین نے بتایا کہ وہ 26 جون 2026 کو پاکستان پہنچی تھیں، جب انہوں نے اکتوبر 2025 میں سنگاپور میں کرپٹو کرنسی سے متعلق کاروباری منصوبے کے لیے مرکزی ملزم رضا ڈار سے ملاقات کی تھی۔
شہادت کے مطابق، انہیں 29 جون کو سالگرہ کی تقریب کے بہانے لاہور کے ایک گھر میں لے جایا گیا۔ پہنچنے پر، مبینہ طور پر چار مسلح افراد داخل ہوئے، ان کے ہاتھ باندھے اور انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ متاثرین نے الزام لگایا کہ ڈار نے پہلے خود کو بھی ایک مغوی ظاہر کیا، لیکن بعد میں اس کا ملوث ہونا واضح ہو گیا۔ اغوا کاروں نے تقریباً 1.5 ملین ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا۔
یہ مقدمہ 2 جولائی کو لاہور کے ڈیفنس سی تھانے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 365-اے (تاوان کے لیے اغوا) اور 375-اے (اجتماعی زیادتی) کے تحت درج کیا گیا تھا۔ ریسکیو آپریشن ایک متاثرہ خاتون کے والد کی جانب سے ایمرجنسی ہیلپ لائن کے ذریعے پاکستانی حکام سے رابطہ کرنے کے بعد شروع کیا گیا۔
چار ملزمان—محمد رضا ڈار، حسن رضا، سکندر خان، اور ساجد علی—کو گرفتار کر کے پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے۔ پولیس پانچویں ملزم کی تلاش میں ہے۔ تفتیش کار اس شخصیت کی بھی چھان بین کر رہے ہیں جسے متاثرین نے “باس” کہا ہے، جس کی ابھی تک عوامی طور پر شناخت نہیں ہو سکی ہے۔
ذرائع: Dawn News Pakistan Observer
لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور تشدد کے کیس میں مزید پیش رفت سامنے آئی ہے۔ واقعے کے سلسلے میں اب نائب وزیراعظم کے ایک رشتے دار کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ، دستیاب اطلاعات کے مطابق لاہور پولیس نے ایک میڈیکل رپورٹ تیار کی ہے اور جاری تفتیش کے حصے کے طور پر ایک ریکارڈ شدہ بیان بھی سامنے آیا ہے۔
ذرائع: Dawn News Express News
لاہور اغوا کیس میں ایک نئی پیش رفت میں، غیر ملکی خواتین میں سے ایک، جن کی شناخت ایسٹرڈ گیبریلا رابنسن کے نام سے ہوئی ہے، نے مجسٹریٹ کی عدالت کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا ہے۔ اس کیس میں مرکزی ملزم رضا ڈار کے خلاف اغوا اور بھتہ خوری کے الزامات شامل ہیں۔
ذرائع: HUM News GNN Express News
لاہور میں ایک ڈچ اور ایک وینزویلا کی خاتون کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا ہے، یہ کیس مبینہ طور پر کریپٹو کرنسی کی سرمایہ کاری کے ایک اسکینڈل سے منسلک ہے۔
علاوہ ازیں، دستیاب اطلاعات میں ایک غیر ملکی خاتون کے ساتھ زیادتی کے الزام کا بھی ذکر ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ کیس نے ایک نیا موڑ لے لیا ہے، تاہم مزید تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں۔
لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے اغوا اور مبینہ تشدد کے کیس میں ایک نئی پیشرفت ہوئی ہے، جس میں ایک متاثرہ خاتون نے مجسٹریٹ کے سامنے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا ہے۔
ذرائع: ARY News
ذرائع اور اپڈیٹس
Latest Activity


Responses