آئینی عدالت کا فیصلہ نسلہ ٹاور کیس سے متعلق
اب تک کی صورتحال
وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے 21 دسمبر 2018 اور 22 جنوری 2019 کے ان احکامات کو واپس لے لیا ہے، جن کی وجہ سے کراچی میں نسلہ ٹاور کو مسمار کیا گیا تھا۔ عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی بنیادی طور پر صوبائی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں آتی ہے نہ کہ عدلیہ کے۔ وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ عدالتوں کو اپنے سامنے موجود تنازع تک محدود رہنا چاہیے اور کیس کے دائرہ کار سے باہر کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت سے گریز کرنا چاہیے، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ سپریم کورٹ نے زیر التوا کارروائیوں سے ہٹ کر ہدایات جاری کی تھیں۔
تازہ ترین اپڈیٹس
وفاقی آئینی عدالت کا سپریم کورٹ کے احکامات واپس لینے کا فیصلہ نسلہ ٹاور کیس سے متعلق ہے۔
11 جولائی 2026 کو، وفاقی آئینی عدالت کے سابقہ سپریم کورٹ کے انہدام سے متعلق احکامات واپس لینے کے فیصلے کو مزید واضح کیا گیا، جس میں خاص طور پر نسلہ ٹاور کے انہدام کے فیصلے کو غلط قرار دیا گیا۔ اس پیش رفت سے متاثرہ رہائشیوں کے لیے ریلیف کی توقع ہے۔
فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ (ایف سی سی) کے نسلہ ٹاور کی مسماری کا باعث بننے والے سپریم کورٹ کے احکامات کو واپس لینے کے فیصلے کے بعد، سینئر وکلاء اور آئینی ماہرین نے ایف سی سی کے موقف کی تائید کی ہے۔ ان کا اتفاق ہے کہ اعلیٰ عدالت نے مسماری کے وسیع احکامات جاری کرنے میں اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا تھا۔
اس نئے فیصلے کے تحت اب سندھ حکومت اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) پر غیر قانونی تعمیرات، خاص طور پر عوامی سہولیات کے پلاٹوں پر، کو روکنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ایف سی سی نے واضح کیا کہ اس کا فیصلہ غیر قانونی کو قانونی حیثیت نہیں دیتا اور نہ ہی کراچی میں غیر مجاز تعمیرات کو کوئی قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے، کیونکہ ایسے خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے لیے ایک جامع قانونی ڈھانچہ پہلے سے موجود ہے۔ پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان نے ایف سی سی کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے دائرہ کار سے تجاوز کیا تھا۔
وفاقی آئینی عدالت نے کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کے کیس کا تحریری فیصلہ 10 جولائی 2026 کو جاری کر دیا۔
نسلہ ٹاور کے حوالے سے فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ کے فیصلے کے بعد، اس کی دوبارہ تعمیر کا مطالبہ مبینہ طور پر تیز ہو گیا ہے۔ اس فیصلے نے تنازعات کو بھی جنم دیا ہے، اور متاثرہ شہریوں کو معاوضے کی ادائیگی کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
Responses