لاہور میں کرپٹو تنازع پر ڈچ اور وینزویلی خواتین کا مبینہ اغوا
ایک نظر میں
- لاہور میں دو غیر ملکی خواتین سے متعلق کیس میں مبینہ طور پر مزید گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔
- دوسری جانب، اس کیس نے ایک سیاسی موڑ اختیار کر لیا ہے، اطلاعات کے مطابق اختیار ولی نے اس تفتیش کے گرد ہونے والی بحث میں پی ٹی آئی کو بھی شامل کر لیا ہے۔
- دو غیر ملکی خواتین کے کیس کے حوالے سے لاہور کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) آپریشنز فیصل کامران کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس مبینہ طور پر ہنگامہ آرائی پر ختم ہوئی۔
مرکزی خبر
لاہور میں دو غیر ملکی خواتین سے متعلق کیس میں مبینہ طور پر مزید گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔ دوسری جانب، اس کیس نے ایک سیاسی موڑ اختیار کر لیا ہے، اطلاعات کے مطابق اختیار ولی نے اس تفتیش کے گرد ہونے والی بحث میں پی ٹی آئی کو بھی شامل کر لیا ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
دو غیر ملکی خواتین کے کیس کے حوالے سے لاہور کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) آپریشنز فیصل کامران کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس مبینہ طور پر ہنگامہ آرائی پر ختم ہوئی۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق ڈی آئی جی کو صحافیوں کی جانب سے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا اور ”شیم شیم” کے نعرے بھی سنے گئے۔ ان سے ممکنہ استعفے اور کیس کو سی سی ڈی کو کیوں منتقل نہیں کیا گیا، اس بارے میں بھی سوال کیا گیا۔ پریس کانفرنس کا اختتام فیصل کامران کے واک آؤٹ پر ہوا۔
لاہور کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) آپریشنز، فیصل کامران نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں دو غیر ملکی خواتین سے متعلق کیس کی تفصیلات فراہم کیں۔
انہوں نے ریسکیو آپریشن اور ان کے مبینہ اغوا کی جاری تحقیقات پر تبادلہ خیال کیا۔ پریس کانفرنس کے دوران، ڈی آئی جی کامران نے کیس کے سلسلے میں ایک مجسٹریٹ کے گھر پر مبینہ چھاپے سے متعلق صحافیوں کے سوالات کے جوابات بھی دیے۔
اتوار، 5 جولائی کو لاہور کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) آپریشنز، فیصل کامران نے بیان دیا کہ دو غیر ملکی خواتین کے اغوا اور تشدد کے مقدمے میں ایک ملزم، جس کا مبینہ طور پر ایک سینئر حکومتی وزیر سے تعلق ہے، کے ساتھ کسی بھی دوسرے مجرم جیسا سلوک کیا جائے گا۔ ڈی آئی جی نے یہ تبصرہ جاری تحقیقات کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور تشدد کے کیس میں ایک نئی پیش رفت میں، ڈی آئی جی فیصل کامران نے تحقیقات کی تفصیلات بتانے کے لیے ایک پریس کانفرنس کی ہے۔
اس کے علاوہ، رپورٹس میں اس کیس کے سلسلے میں “باس” کے نام سے مشہور ایک ملزم کی گرفتاری کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔
ذرائع: Samaa TV HUM News Express News
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، اس ہائی پروفائل تشدد اور اغوا کے مقدمے کا مرکزی ملزم ابھی تک مفرور ہے۔
ذرائع: Samaa TV
لاہور اغوا کیس میں ایک نئی پیشرفت میں، عقیل ملک نے تجویز دی ہے کہ تحقیقات پنجاب کے محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی سی ڈی) کے حوالے کر دی جائیں۔
ذرائع: Samaa TV Express News
تفتیش میں ہونے والی پیش رفت کے مطابق، پولیس نے لاہور میں مبینہ طور پر اغوا اور تشدد کا نشانہ بننے والی دونوں غیر ملکی خواتین کے بیانات قلمبند کر لیے ہیں۔
ذرائع: GEO Dunya News
لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور تشدد کی تحقیقات میں مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ 4 جولائی کی رپورٹس کے مطابق، مرکزی ملزم رضا ڈار “دی باس” نامی ایک نامعلوم فرد سے رابطے میں تھا۔
اس کے علاوہ، سرکاری پولیس بیانات اور کیس کے دستیاب حقائق کے درمیان مبینہ تضادات پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
ذرائع: ARY News Dunya News
4 جولائی کو ایک نئی پیشرفت میں، اظہر صدیق نے لاہور میں دو غیر ملکی خواتین پر تشدد کے کیس کی تحقیقات کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا پولیس کو بیرونی دباؤ کا سامنا ہے۔ اس کیس کو ملک کے نظام انصاف کے لیے ایک اہم امتحان بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع اور اپڈیٹس
Latest Activity

Responses