مرکزی خبر پر جائیں

کشمیر پر امریکی سفیر کے بیان پر پاکستان کا امریکی سفارتکار کو طلب کر کے احتجاج

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: کشمیر پر امریکی سفیر کے بیان پر پاکستان کا امریکی سفارتکار کو طلب کر کے احتجاج
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • پاکستان نے کشمیر پر تبصرے پر امریکی ناظم الامور کو طلب کیا۔
  • احتجاج بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور کی جانب سے مبینہ طور پر جموں و کشمیر کو 'بھارت کا حصہ' کہنے پر کیا گیا۔
  • دفتر خارجہ نے ریمارکس کو 'حقائق کے منافی' اور 'غیر ذمہ دارانہ' قرار دیا۔

اب تک کی صورتحال

پاکستان نے امریکہ سے اس وقت شدید سفارتی احتجاج کیا ہے جب بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور نے خطے کے دورے کے دوران مبینہ طور پر جموں و کشمیر کو 'بھارت کا حصہ' قرار دیا۔ دفتر خارجہ نے امریکی ناظم الامور کو طلب کرکے سفیر کے ریمارکس کو 'حقائق کے منافی' اور 'غیر ذمہ دارانہ' قرار دیا۔ پاکستان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے اور امریکہ پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کے عوامی بیانات اس علاقے کی متنازعہ حیثیت کے مطابق ہوں۔

تازہ ترین پیش رفت

پاکستان کی وزارت خارجہ نے اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور کو طلب کرکے بھارت میں تعینات امریکی سفیر سرجیو گور کے اس بیان پر شدید سفارتی احتجاج کیا ہے جس میں انہوں نے مبینہ طور پر جموں و کشمیر کو 'بھارت کا حصہ' قرار دیا تھا۔

تازہ ترین اپڈیٹس

یہ احتجاج بھارت میں امریکی سفیر کے دورۂ مقبوضہ کشمیر کے بعد سامنے آیا، جس کے دوران مبینہ طور پر یہ ریمارکس دیے گئے۔ دفتر خارجہ نے سفارتی احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے امریکی ناظم الامور نیٹیلی بیکر کو طلب کیا۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>