پٹرول پمپ مالکان ہڑتال پر تقسیم، حکومتی مذاکرات کے بعد ایک دھڑے نے ہڑتال ملتوی کر دی
ایک نظر میں
- پٹرول پمپ مالکان ملک گیر ہڑتال پر تقسیم ہو گئے ہیں۔
- ایک دھڑے نے حکومتی یقین دہانیوں کے بعد اپنی ہڑتال ملتوی کر دی ہے۔
- دوسرا دھڑا کمیشن اور سپلائی کوٹہ کے مطالبات پر ہڑتال جاری رکھنے پر بضد ہے۔
اب تک کی صورتحال
پٹرول پمپ اونرز اینڈ ڈیلرز ایسوسی ایشن نے پہلے ملک گیر ہڑتال ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن آل پاکستان پٹرولیم پمپس اونرز ایسوسی ایشن (APPPOA) کے ایک دھڑے نے بڑے شہروں میں پمپ بند کر کے ہڑتال شروع کر دی، جس کی وجہ یومیہ پٹرولیم قیمتوں کا طریقہ کار اور ڈیلرز کے کم مارجن تھے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے معاشی خلل کے خدشے کے پیش نظر حکومت سے مداخلت کی اپیل کی تھی۔ وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے پہلے ڈیلر مارجن میں 9.63 روپے تک اضافے کا اعلان کیا تھا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، ایسوسی ایشن میں تقسیم پیدا ہو گئی ہے، ایک گروپ نے حکومتی یقین دہانیوں کے بعد ہڑتال ملتوی کر دی ہے، جبکہ دوسرا اپنے غیر حل شدہ مطالبات پر احتجاج جاری رکھنے پر بضد ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
حکومت نے آل پاکستان پٹرولیم پمپ اونرز ایسوسی ایشن کو تقسیم کر دیا ہے، جس کے بعد ایک دھڑے نے یومیہ قیمتوں اور ڈیلر مارجن کے حوالے سے حکومتی یقین دہانیوں کے بعد اپنی ہڑتال دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی ہے۔ تاہم، دوسرا دھڑا مذاکرات کی ناکامی کا دعویٰ کرتے ہوئے ہڑتال جاری رکھنے پر بضد ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
حکومت نے آل پاکستان پٹرولیم پمپ اونرز ایسوسی ایشن (APPPOA) کو تقسیم کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ایک دھڑے نے پٹرولیم وزیر کی یقین دہانیوں کے بعد اپنی ہڑتال دو ہفتوں کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر نے یومیہ پٹرولیم قیمتوں کے طریقہ کار کے لیے دو ہفتوں کی آزمائشی مدت اور اس کے بعد اس کے فوائد و نقصانات کا جائزہ لینے کا وعدہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، حکومت نے ڈیلر مارجن میں اضافے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے، جو 2022 سے تبدیل نہیں ہوئے ہیں۔
تاہم، اسی ایسوسی ایشن کے چیئرمین اور وائس چیئرمین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں اور انہوں نے آدھی رات سے ہڑتال جاری رکھنے کا عزم کیا ہے، جس کی تصدیق بند پٹرول پمپوں کی فوٹیج سے ہوتی ہے۔ ڈیلرز 8 فیصد کمیشن کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو تقریباً 25 روپے فی لیٹر بنتا ہے، اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی طرف سے عائد سپلائی کوٹہ کے خاتمے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔
آل پاکستان پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن (APPPOA) نے حکومت کے روزانہ پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ یہ پالیسی صارفین، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری اداروں کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے، جس سے لاگت کا تخمینہ لگانا مشکل ہو رہا ہے اور مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) کے صدر فہیم الرحمان سیگل نے وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پیٹرولیم ڈیلرز کے ساتھ فوری طور پر بامعنی مشاورت کرے، کیونکہ انہوں نے غیر معینہ مدت کے لیے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ LCCI نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ایندھن کی سپلائی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ ٹرانسپورٹیشن، لاجسٹکس، تجارت، صنعت، زراعت اور روزمرہ کی اقتصادی سرگرمیوں کو شدید متاثر کرے گی، اور مہنگائی، بڑھتے ہوئے یوٹیلیٹی ٹیرف اور صارفین کی قوت خرید میں کمی سے پہلے ہی جدوجہد کرنے والے کاروباری اداروں کے لیے مزید چیلنجز پیدا کرے گی۔
اطلاعات کے مطابق حکومت اور پیٹرول پمپ مالکان و ڈیلرز ایسوسی ایشن کے درمیان کامیاب مذاکرات ہوئے ہیں، جس سے جاری ہڑتال کے حل کی امید پیدا ہوئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق پٹرول پمپ ہڑتال کے حوالے سے حکومت کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا ہے، جس کے باعث پٹرول پمپس رات 12 بجے سے بند ہو رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، حکومت اور پیٹرول پمپ مالکان و ڈیلرز ایسوسی ایشن کے درمیان جاری مذاکرات کے باوجود پیٹرول پمپس اب رات کو بند رہیں گے۔ دریں اثنا، پی ٹی آئی کے رانا عاطف نے پیٹرول ہڑتال پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایندھن کے بحران سے متعلق حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔
پیٹرول پمپ اونرز اینڈ ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اپنی ملک گیر ہڑتال ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے اعلان کیا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان کے لیے ڈیلر مارجن بڑھا کر 9.63 روپے کر دیا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ حکومت ان کے حقوق کا تحفظ کرے گی۔ دریں اثنا، کئی شہروں میں پٹرول پمپ غیر معینہ مدت کے لیے بند ہیں۔
Responses