رانا ثناء اللہ نے لطیف اکبر پر حملے کے دعوؤں کے درمیان انکشافات کیے
ایک نظر میں
- مسلم لیگ (ن) نے چوہدری لطیف اکبر پر حملے سے انکار کیا، اسے خاندانی تنازعہ قرار دیا۔
- چوہدری لطیف اکبر کا دعویٰ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے ان پر حملہ کیا۔
- آزاد کشمیر کے وزیر اعظم فیصل راٹھور نے مبینہ حملے کا نوٹس لیا ہے۔
اب تک کی صورتحال
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے سیاستدان چوہدری لطیف اکبر پر حملے کے الزامات کی تردید کی ہے، اسے خاندانی تنازعہ قرار دیا ہے۔ تاہم، پیپلز پارٹی کے رہنما، بشمول راجہ پرویز اشرف اور قمر زمان کائرہ، کا کہنا ہے کہ لطیف اکبر پر آزاد کشمیر انتخابات کے دوران حملہ کیا گیا تھا، کائرہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ پیپلز پارٹی کا ایک کارکن ہلاک ہوا اور پولنگ میں بے ضابطگیاں ہوئیں۔ چوہدری لطیف اکبر نے خود دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے ان پر حملہ کیا، اور آزاد کشمیر کے وزیر اعظم فیصل راٹھور نے نوٹس لیا ہے۔ رانا ثناء اللہ نے پہلے پیپلز پارٹی پر اس واقعے کے بارے میں جھوٹا پروپیگنڈا پھیلانے کا الزام لگایا تھا۔
تازہ ترین پیش رفت
رانا ثناء اللہ نے چوہدری لطیف اکبر پر مبینہ حملے کے گرد جاری تنازعہ کے درمیان پاکستان پیپلز پارٹی (پیپلز پارٹی) کے بارے میں "چونکا دینے والے انکشافات" کیے ہیں۔
Responses