جماعت اسلامی کے رہنما نے ایران سے مکہ معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ کیا
ایک نظر میں
- پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
- جماعت اسلامی کے ایک رہنما نے ایران سے اس معاہدے میں شامل ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
- اس معاہدے کو مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا قرار دیا گیا ہے اور یہ دیگر علاقائی ممالک کے لیے کھلا ہے۔
اب تک کی صورتحال
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے باضابطہ طور پر مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس سے اجتماعی سلامتی کا فریم ورک قائم ہوا ہے۔ یہ معاہدہ، جسے مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا قرار دیا گیا ہے اور کسی ملک کے خلاف نہیں، کسی بھی دستخط کنندہ پر مسلح حملے کو سب پر حملہ تصور کرتا ہے، جو نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مشابہت رکھتا ہے۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس کے دائرہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے علاقائی امن و استحکام کے لیے اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے تصدیق کی ہے کہ یہ دیگر علاقائی ممالک کے لیے کھلا ہے، جس میں مصر بھی شامل ہو سکتا ہے، اور سعودی عرب میں ایک وزارتی کمیٹی اور جنرل سیکرٹریٹ قائم کیا جائے گا۔ ان پیش رفتوں کے درمیان، جماعت اسلامی کے ایک رہنما نے عوامی طور پر ایران سے اس معاہدے میں شامل ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
جماعت اسلامی کے ایک رہنما نے حال ہی میں دستخط کیے گئے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں ایران کی شمولیت کا عوامی طور پر مطالبہ کیا ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
جماعت اسلامی کے ایک رہنما نے حال ہی میں دستخط کیے گئے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں ایران کی شمولیت کا عوامی طور پر مطالبہ کیا ہے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اتوار، 9 اگست 2026 کو کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ان دیگر ممالک کے لیے بھی کھلا ہے جو اس کے بنیادی اصولوں پر عمل پیرا ہونے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کی حمایت کرنا ہے۔ یہ معاہدہ، جو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے جمعہ، 7 اگست کو مکہ المکرمہ میں مشترکہ دفاعی سربراہی اجلاس میں دستخط کیا تھا، ایک اجتماعی سلامتی کا طریقہ کار قائم کرتا ہے جس کے تحت کسی ایک دستخط کنندہ پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ سمجھا جائے گا۔ ڈار نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ کسی بھی موجودہ معاہدے کو منسوخ یا تبدیل نہیں کرتا اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق ہے۔
Responses