امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی جاری، مذاکرات میں تعطل
ایک نظر میں
- امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔
- امریکی سینٹرل کمانڈ ایران کے خلاف حملے کر رہی ہے۔
- ایران نے امریکی اڈوں اور بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
اب تک کی صورتحال
مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایران کے خلاف متعدد حملوں کی تکمیل کا اعلان کیا ہے، یہ فضائی حملے مسلسل دس دن اور رات تک جاری رہے، جن میں فوجی کمانڈ سینٹرز، سمندری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس، اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر حملہ کرنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز (IRGC) نے بحرین، کویت اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے، اور آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکرز میں آگ لگنے کی اطلاع دی ہے۔ کویت نے منگل کو ایران کی جانب سے سمندری پانی کو میٹھا کرنے والے پلانٹ اور ایک پاور اسٹیشن کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے۔ بحرین اور اردن نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایرانی حملوں کو اپنے اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکام بنا دیا۔ پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں میں ایران کے ساتھ جاری تنازع میں تقریباً 100 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں، جبکہ تین فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ حالت جنگ میں ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا عزم کیا ہے، اور ایک امریکی وزیر توانائی نے 'تباہ کن حملوں' کے جاری رہنے کی وارننگ دی ہے۔ ایران کے کئی شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔ ثالثوں کی جانب سے 10 روزہ جنگ بندی کی پیشکش کی گئی تھی، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں مزید دلچسپی نہیں رکھتا۔
تازہ ترین پیش رفت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں مزید دلچسپی نہیں رکھتا، حالانکہ اطلاعات کے مطابق ایران ایک معاہدہ چاہتا تھا۔
Responses