مرکزی خبر پر جائیں

وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی پر دباؤ میں اضافہ، عہدے سے ہٹائے جانے کی قیاس آرائیاں

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی پر دباؤ میں اضافہ، عہدے سے ہٹائے جانے کی قیاس آرائیاں
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • کے پی کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پر اپنی ہی جماعت پی ٹی آئی کے اندر سے دباؤ بڑھ رہا ہے۔
  • اطلاعات ہیں کہ انہیں 4 اکتوبر سے پہلے تبدیل کیا جا سکتا ہے، اور متبادل نام زیر غور ہیں۔
  • مسلم لیگ (ن) کے اختیار ولی نے عوامی سطح پر کہا ہے کہ کے پی کو 'پارٹ ٹائم وزیر اعلیٰ' کی ضرورت نہیں۔

اب تک کی صورتحال

اپنی کارکردگی اور متواتر غیر حاضریوں پر پی ٹی آئی کے اندر سے بڑھتی ہوئی تنقید کے درمیان، خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اختلافات کو حل کرنے کے لیے پارٹی کے سینئر رہنما علی امین گنڈا پور سے ملاقات کی۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کی جانب سے پارٹی بانی کے آفریدی پر اعتماد کی عوامی یقین دہانی کے باوجود، دباؤ میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ اب اطلاعات ہیں کہ آفریدی کو 4 اکتوبر سے پہلے تبدیل کیا جا سکتا ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما اختیار ولی خان نے بھی تنقید میں شامل ہوتے ہوئے کہا ہے کہ کے پی کو "پارٹ ٹائم وزیر اعلیٰ" کی ضرورت نہیں۔

تازہ ترین پیش رفت

خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پر دباؤ میں شدت آ گئی ہے، اور اطلاعات ہیں کہ انہیں 4 اکتوبر سے پہلے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہ قیاس آرائیاں پی ٹی آئی کے اندر بڑھتے ہوئے عدم اطمینان کے درمیان سامنے آئی ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما اختیار ولی خان نے بھی عوامی سطح پر کہا ہے کہ صوبے کو "پارٹ ٹائم وزیر اعلیٰ کی ضرورت نہیں"۔

Responses

تازہ ترین فیکٹ چیکس

GNN
>
0سکے

Share story