مرکزی خبر پر جائیں

نئے صوبوں پر بحث جاری، مختلف سیاسی نقطہ نظر سامنے آنے لگے

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: نئے صوبوں پر بحث جاری، مختلف سیاسی نقطہ نظر سامنے آنے لگے
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل پر قومی بحث جاری ہے۔
  • تجاویز میں بہاولپور، جنوبی پنجاب اور ہزارہ کی تشکیل شامل ہے۔
  • وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ کی تقسیم کی کسی بھی تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

اب تک کی صورتحال

پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے ایک قومی بحث جاری ہے، جس کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ ملک کی بڑی آبادی کے لیے موجودہ چار صوبے ناکافی ہیں۔ سابق وزیر محمد علی درانی نے بہاولپور، جنوبی پنجاب اور ہزارہ صوبے بنانے کی تجویز دی ہے۔ تاہم، اس تجویز کو شدید مخالفت کا سامنا ہے، خاص طور پر سندھ کی تقسیم کے حوالے سے، جسے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ توقع ہے کہ اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کی جائے گی۔

تازہ ترین پیش رفت

سیاسی رہنما فواد چوہدری نے قومی بحث میں حصہ لیتے ہوئے اس بات پر سوال اٹھایا ہے کہ کیا سندھ اور پنجاب جیسے صوبوں کی تقسیم ہی واحد حل ہے اور انہوں نے 'نئے نظام' کا خیال پیش کیا ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

قومی مکالمے میں ایک نیا پہلو شامل کرتے ہوئے، سیاسی رہنما فواد چوہدری نے نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے جاری بحث میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ حالیہ تبصروں میں، انہوں نے اس بات پر سوال اٹھایا کہ کیا سندھ اور پنجاب جیسے موجودہ صوبوں کی تقسیم ہی واحد حل ہے، اور متبادل کے طور پر ”نئے نظام“ کا امکان ظاہر کیا۔

جمعہ 11 ستمبر کو ایک نئی پیش رفت میں، سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے مبینہ طور پر تین نئے صوبوں کی تشکیل کی تجویز دی ہے: بہاولپور، جنوبی پنجاب، اور ہزارہ۔

ان کی تقریر نے پاکستان میں نئی انتظامی اکائیاں بنانے پر جاری قومی بحث میں مخصوص تجاویز کا اضافہ کیا ہے۔

نئے صوبوں کی تشکیل پر قومی بحث میں سیکیورٹی کا پہلو بھی شامل ہو گیا ہے، جہاں کچھ لوگ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو دہشت گردی کے خاتمے سے جوڑ رہے ہیں۔ دریں اثنا، حکومتی نمائندے طارق فضل چوہدری نے بھی نئے صوبوں کے قیام کے لیے انتظامیہ کی تیاری پر ایک بیان جاری کیا ہے۔

نئے صوبوں کی تشکیل پر قومی بحث میں مختلف علاقوں سے عوامی حمایت کی اطلاعات کے ساتھ شدت آگئی ہے۔ مبینہ طور پر جنوبی خیبرپختونخوا اور فیصل آباد شہر کے رہائشیوں نے نئی انتظامی اکائیوں کے قیام کی حمایت کی ہے۔ دریں اثنا، اس معاملے پر عوامی رائے کی تفصیلات پر مبنی ایک سروے رپورٹ بھی جاری کی گئی ہے۔ سندھ میں، صوبائی وزیر سعید غنی نے خطے میں نئے صوبے کی تشکیل میں مبینہ رکاوٹوں پر تبصرہ کرتے ہوئے اس بحث میں حصہ لیا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ کی تقسیم کی کسی بھی تجویز کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خیال پہلے ہی رد کیا جا چکا ہے۔ 11 ستمبر کو ان کے تبصرے پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس بنانے کے بارے میں جاری قومی بحث کے دوران ان کے موقف کو تقویت دیتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ”دو نظام“ نہیں چل سکتے۔ انہوں نے صوبائی حدود کے معاملے پر بات کرتے ہوئے نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے جاری بحث کے دوران اپنے مؤقف کی وضاحت کی۔ انہوں نے اس معاملے کے سلسلے میں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر بھی تبصرہ کیا۔ مزید مصدقہ تفصیلات دستیاب ہونے پر پاکستان نیوز اس خبر کو اپ ڈیٹ کرے گا۔

حکومت نے اعلان کیا ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل پر پارلیمانی بحث اکتوبر میں ہوگی۔

پی پی پی رہنما قمر زمان کائرہ نے نئے صوبوں کی تشکیل پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ سے متعلق کوئی بھی فیصلہ اس کے عوام ہی کریں گے۔

نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے سیاسی بیانیے میں اس وقت شدت آگئی ہے جب اہم شخصیات نے اس بحث میں اپنی آواز شامل کی ہے۔ رانا ثناء اللہ نے عوامی سطح پر بیان دیا ہے کہ اس معاملے پر پارلیمنٹ میں باقاعدہ بحث ہونی چاہیے۔

اس کے علاوہ، محمد علی درانی نے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی سمیت کوئی بھی سیاسی جماعت نئے صوبوں کی تشکیل کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ انہوں نے اس تناظر میں آئین کے آرٹیکل 6 کا حوالہ دے کر بیان بازی کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

نئے صوبوں کی تشکیل پر بحث باضابطہ طور پر پارلیمنٹ میں شروع ہونے والی ہے، حکومت کے مطابق اس معاملے کو اکتوبر میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں کے ایجنڈے پر رکھا جائے گا۔ یہ بات ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہی ہے۔

یہ پیشرفت سیاسی بحث میں شدت آنے کے بعد ہوئی ہے، جس میں کچھ رپورٹس اس مسئلے پر ریفرنڈم کے امکان کا بھی عندیہ دے رہی ہیں۔ دستیاب تبصروں کے مطابق، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ایسی کسی بھی تجویز کی مخالفت کر سکتی ہے۔

پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل کے گرد جاری بحث میں مبینہ طور پر شدت آ گئی ہے، جس میں خاص طور پر پنجاب حکومت کے ممکنہ منصوبوں پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ اس بحث میں بھارت کے ساتھ موازنہ بھی کیا جا رہا ہے، جس نے اپنی انتظامیہ کو منظم کرنے کے لیے سالوں کے دوران اپنی ریاستوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

GNN
Pakistan Observer

Sindh’s resistance to new provinces

Ayaz Ali Sheikh THE question of creating new provinces in Pakistan is becoming increasingly controversial over time. In Sindh, in…

Pakistan Observer

The elitist state

SINCE Interior Minister Mohsin Naqvi claimed that the state system has collapsed, the debate over creating new administrative units…

Responses

>