مرکزی خبر پر جائیں

عمران خان کی اسپتال منتقلی: سپریم کورٹ نے فوری سماعت کی درخواست ایک بار پھر مسترد کردی

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: عمران خان کی اسپتال منتقلی: سپریم کورٹ نے فوری سماعت کی درخواست ایک بار پھر مسترد کردی
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • سپریم کورٹ نے عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق توہین عدالت کی درخواست پر فوری سماعت کی دوسری استدعا مسترد کر دی۔
  • عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت 16 ستمبر کو مقرر ہے۔
  • یہ کیس عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے کے 18 اگست کے حکم پر عمل درآمد نہ ہونے سے متعلق ہے۔

اب تک کی صورتحال

سابق وزیراعظم عمران خان کو طبی علاج کے لیے نجی اسپتال منتقل کرنے کی قانونی کوششیں جاری ہیں۔ اگرچہ سپریم کورٹ نے 18 اگست کو انہیں شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن ان کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ اس حکم پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوا، جس پر انہوں نے توہین عدالت کی درخواست دائر کی۔ سپریم کورٹ نے اب اس توہین عدالت کی درخواست پر فوری سماعت کی دو درخواستیں مسترد کر دی ہیں اور اس کی سماعت 16 ستمبر کو مقرر کی ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

سپریم کورٹ نے عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست پر فوری سماعت کی دوسری استدعا مسترد کر دی ہے۔ رجسٹرار آفس نے کہا ہے کہ کیس کی سماعت مقررہ تاریخ 16 ستمبر کو ہی ہوگی، جس کی وجہ مقدمات کی باری پر سماعت کی پالیسی ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کی جانب سے ان کی طبی دیکھ بھال سے متعلق توہین عدالت کی درخواست پر فوری سماعت کی دوسری استدعا مسترد کر دی ہے۔

رجسٹرار آفس نے کہا ہے کہ کیس کی سماعت مقررہ تاریخ 16 ستمبر کو ہی ہوگی، اور اس کی وجہ مقدمات کی باری پر سماعت کی پالیسی اور اسی نوعیت کی 94 دیگر درخواستوں کا زیر التوا ہونا ہے۔

توہین عدالت کی درخواست 18 اگست کے اس عدالتی حکم پر مکمل عمل درآمد نہ ہونے کے بعد دائر کی گئی تھی جس میں عمران خان کو نجی اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ سابق وزیراعظم کی صحت سے متعلق مرکزی کیس کی سماعت بھی 16 ستمبر کو تین رکنی بینچ کے روبرو مقرر ہے۔

سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو طبی علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد خان کو ان کی موجودہ حراست کی جگہ سے نجی طبی دیکھ بھال کے لیے منتقل کرنے کی قانونی کوشش اختتام پذیر ہو گئی ہے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

GNN

Responses

>