آبنائے ہرمز میں کشیدگی، امریکی حملے جاری، ایرانی میزائل حملوں کی بھی اطلاعات
ایک نظر میں
- امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر عائد کی جانے والی 20 فیصد فیس کی تجویز کو ختم کر رہے ہیں۔
- یہ فیصلہ ان کی جانب سے ابتدائی طور پر فیس کی تجویز پیش کرنے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ واشنگٹن اب "آبنائے ہرمز کا محافظ" ہے اور اس کی حفاظت کے لیے چارجز عائد کرے گا۔صدر ٹرمپ نے …
- اب وہ مجوزہ فیس کو خلیجی اتحادیوں کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے معاہدوں سے بدل دیں گے۔اس تبدیلی کے باوجود، صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے بحری جہازوں یا ایرانی کارگو لے جا…
تازہ ترین پیش رفت: آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے بعد تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے اعلان کے بعد امریکی افواج نے مسلسل تیسری رات حملے کیے ہیں۔
مرکزی خبر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر عائد کی جانے والی 20 فیصد فیس کی تجویز کو ختم کر رہے ہیں۔ یہ فیصلہ ان کی جانب سے ابتدائی طور پر فیس کی تجویز پیش کرنے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ واشنگٹن اب “آبنائے ہرمز کا محافظ” ہے اور اس کی حفاظت کے لیے چارجز عائد کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کا یہ فیصلہ “مشرق وسطیٰ کی قیادت کے ساتھ انتہائی نتیجہ خیز بات چیت” پر مبنی ہے۔ اب وہ مجوزہ فیس کو خلیجی اتحادیوں کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے معاہدوں سے بدل دیں گے۔
اس تبدیلی کے باوجود، صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے بحری جہازوں یا ایرانی کارگو لے جانے والے جہازوں پر “مکمل ناکہ بندی” جاری رہے گی۔ پہلے کی پیش رفت کے جواب میں، ایران کی فوجی کمان نے اصرار کیا تھا کہ وہ امریکہ کو اس اہم آبی گزرگاہ میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گی اور اس نے اپنے خلیجی پڑوسیوں کو واشنگٹن کے ساتھ تعاون نہ کرنے کی تنبیہ کی تھی۔
تازہ ترین اپڈیٹس
آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے بعد تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے اعلان کے بعد امریکی افواج نے مسلسل تیسری رات حملے کیے ہیں۔ پیر کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی شپنگ کی ناکہ بندی بحال کر دی تھی اور ٹرانزٹ فیس کی تجویز دی تھی، لیکن بعد میں کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کے علاوہ تمام شپنگ ٹریفک کے لیے کھلا ہے۔
رپورٹس کے مطابق کویت اور بحرین میں نئے حملے اور سائرن بجنے کی اطلاعات ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس سے قبل “ہیوج ہیوٹ شو” پر کہا تھا کہ ایران کو “بہت سخت” نشانہ بنایا جائے گا۔
منگل کی شام 7 بجے کے قریب ایران کے جزیرہ قشم پر ایک امریکی پروجیکٹائل سے حملہ ہوا، اور ایک اور امریکی پروجیکٹائل ایران کے جزیرہ کیش پر پانی اور بجلی کی سہولت کے قریب پھٹا۔ جنوبی خوزستان صوبے کے اندیمشک میں ہونے والے ایک دھماکے کو بعد میں کنٹرول شدہ دھماکہ قرار دیا گیا اور اسے حملہ نہیں کہا گیا۔
اس کے علاوہ، ایران نے اردن میں ایک امریکی فوجی اڈے پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا، جبکہ بحرین نے ایرانی فضائی حملے کو ناکام بنانے کی اطلاع دی۔ اردن نے چار بیلسٹک میزائلوں کو مار گرانے کی تصدیق کی، اور بحرین کے دارالحکومت منامہ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
متحدہ عرب امارات نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی کروز میزائلوں سے دو اماراتی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں ایک ہندوستانی عملے کا رکن ہلاک اور آٹھ دیگر زخمی ہوئے۔
ذرائع: Business Recorder
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر فیس کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ “کسی کو فیس نہیں لینی چاہیے۔”
ذرائع: Express News
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر 20 فیصد “یونائیٹڈ اسٹیٹس ری ایمبرسمنٹ فیس” عائد کرنے کا اپنا فیصلہ واپس لے لیا، یہ اعلان اس اقدام کے اعلان کے صرف ایک دن بعد کیا گیا۔ اس فیس کو خلیجی ممالک کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدوں سے تبدیل کیا جائے گا، جس کا مقصد واشنگٹن کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرنا ہے۔
ٹرانزٹ لیوی کو ختم کرنے کے باوجود، صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران سے منسلک بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے مکمل ناکہ بندی برقرار رکھے گا۔ یہ اقدام صرف ایرانی بندرگاہوں سے آنے یا جانے والے یا ایرانی کارگو لے جانے والے بحری جہازوں پر لاگو ہوگا۔
ایران کی فوجی قیادت نے امریکی موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس اہم آبی گزرگاہ میں امریکی مداخلت کی اجازت نہیں دے گی اور پڑوسی خلیجی ممالک کو واشنگٹن کے ساتھ تعاون نہ کرنے کی وارننگ دی۔
ذرائع اور اپڈیٹس
Latest Activity






Responses