سپریم کورٹ نے استاد کی ترقی بحال، پنجاب حکومت کا حکم کالعدم قرار دے دیا
ایک نظر میں
- سپریم کورٹ نے استاد محمد شفیق کی بی ایس-16 میں ترقی تمام مراعات کے ساتھ بحال کر دی۔
- جسٹس عائشہ ملک کے تحریر کردہ فیصلے میں اساتذہ کے لیے 50 فیصد پروموشن کوٹہ کی توثیق کی گئی۔
- عدالت نے قرار دیا کہ قوانین میں ابہام کی وجہ سے ترقیاں واپس لینا گڈ گورننس کے خلاف ہے۔
اب تک کی صورتحال
سپریم کورٹ آف پاکستان نے پنجاب سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ایلیمنٹری اسکول ٹیچر محمد شفیق کی بنیادی پے اسکیل (بی ایس) 16 میں ترقی تمام گزشتہ مراعات کے ساتھ بحال کر دی ہے۔ عدالت نے 24 مئی 2023 کا وہ حکم نامہ کالعدم قرار دیا جس کے تحت 2014 کے سروس رولز میں ایک نوٹ کا حوالہ دے کر ان کی ترقی واپس لے لی گئی تھی۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں کہا گیا کہ ایلیمنٹری اسکول ٹیچرز سنیارٹی اور میرٹ کی بنیاد پر 50 فیصد پروموشن کوٹہ کے حقدار ہیں اور قوانین میں ابہام کی بنا پر ملازمین کو سزا دینا گڈ گورننس کے منافی ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
سپریم کورٹ نے استاد کی ترقی کے کیس کا 6 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے، جسے جسٹس عائشہ ملک نے تحریر کیا ہے۔ فیصلے میں اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ ملازمین کی سنیارٹی میں ابہام پیدا کرنا گڈ گورننس کے خلاف ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
سپریم کورٹ نے پنجاب کے اسکول ٹیچر کی ترقی کے کیس کا 6 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ فیصلہ جسٹس عائشہ ملک نے تحریر کیا ہے۔
فیصلے میں دہرایا گیا ہے کہ ملازمین کی ترقی اور سنیارٹی میں ابہام پیدا کرنا گڈ گورننس کے اصولوں کے منافی ہے۔
تازہ ترین فیکٹ چیکس
سپریم کورٹ کا ایلیمنٹری سکول ٹیچرز کی پروموشن سے متعلق اہم فیصلہ
سپریم کورٹ نے ایلیمنٹری سکول ٹیچرز کی پروموشن سے متعلق اہم فیصلہ سنادیا۔
Responses