بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کیس: سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی نظرثانی اپیل مسترد کردی
ایک نظر میں
- سپریم کورٹ نے دو ایم کیو ایم کارکنان کی بریت کے خلاف سندھ حکومت کی نظرثانی درخواست مسترد کر دی۔
- یہ کیس 2012 کی بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی سے متعلق ہے جس میں 260 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
- عدالت نے عبدالرحمٰن عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کو بری کرنے کے اپنے 10 جون کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
اب تک کی صورتحال
یہ کیس 11 ستمبر 2012 کو کراچی کے بلدیہ ٹاؤن میں واقع علی انٹرپرائزز گارمنٹ فیکٹری میں لگنے والی آگ سے متعلق ہے، جس میں 260 سے زائد مزدور جاں بحق ہوگئے تھے۔ ایم کیو ایم کے دو کارکنان، عبدالرحمٰن عرف بھولا اور زبیر عرف چریا، کو 2020 میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے مجرم قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی۔ 2023 میں سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے سزا برقرار رکھنے کے بعد، مجرموں نے سپریم کورٹ میں اپیل کی، جس نے رواں سال 10 جون کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے انہیں بری کر دیا۔ بعد ازاں سندھ حکومت نے بریت کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کی، جسے اب مسترد کر دیا گیا ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
سپریم کورٹ نے 2012 کے بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی کیس میں ایم کیو ایم کے دو کارکنان، عبدالرحمٰن عرف بھولا اور زبیر عرف چریا، کی بریت کے خلاف سندھ حکومت کی نظرثانی کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
تازہ ترین فیکٹ چیکس
SC dismisses Sindh govt's plea against acquittal of 2 MQM workers in Baldia factory fire case
ISLAMABAD: The Supreme Court (SC) on Wednesday rejected the Sindh government’s petition seeking to revisit its June 10 decision overturning the convictions of two Muttahida Qaumi Movement (MQM) workers for their alleged involvement in the deadly 2012
Responses