مرکزی خبر پر جائیں

سندھ میں بجلی کا شدید بحران: اسپیکر نے بجلی کمپنیوں کے سربراہان کو 23 ستمبر کو طلب کر لیا

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: سندھ میں بجلی کا شدید بحران: اسپیکر نے بجلی کمپنیوں کے سربراہان کو 23 ستمبر کو طلب کر لیا
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • سندھ کو روزانہ 20 گھنٹے تک کی شدید بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے۔
  • اسپیکر سندھ اسمبلی نے کے-ای، حیسکو اور سیپکو کے سربراہان کو طلب کر لیا ہے۔
  • بجلی کمپنیوں کے سربراہان 23 ستمبر کو اسمبلی کے سامنے پیش ہوں گے۔

اب تک کی صورتحال

سندھ میں بجلی کے شدید بحران کے دوران، جہاں کچھ علاقوں کو روزانہ 18 سے 20 گھنٹے بجلی کی بندش کا سامنا ہے، صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں بشمول کے-الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کو 'بدانتظامی' پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ احتساب کے ان کے مطالبے کے بعد، اسپیکر سندھ اسمبلی نے اب تینوں کمپنیوں کے سربراہان کو 23 ستمبر کو اسمبلی میں پیش ہونے کے لیے طلب کر لیا ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

اسپیکر سندھ اسمبلی نے صوبے میں بجلی کے شدید بحران پر کے-الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کے سربراہان کو 23 ستمبر کو پیش ہونے کے لیے طلب کر لیا ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

اسپیکر سندھ اسمبلی نے کے-الیکٹرک (KE)، حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (HESCO)، اور سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (SEPCO) کے سربراہان کو 23 ستمبر کو اسمبلی میں پیش ہونے کے لیے طلب کر لیا ہے۔

یہ سمن صوبے بھر میں بجلی کے جاری شدید بحران اور طویل لوڈ شیڈنگ کے جواب میں جاری کیا گیا ہے۔

بجلی کے جاری بحران پر بات کرتے ہوئے، سندھ کے وزیر شرجیل انعام میمن نے اب مطالبہ کیا ہے کہ صوبے کو متاثر کرنے والی طویل بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر کے-الیکٹرک کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

GNN

Responses

>