کویت، قطر، متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کے ساتھ ایرانی حملوں کی مذمت کی

ایک نظر میں

  • سعودی کابینہ نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور تیل بردار بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے اور ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایسی کارروائیاں بند کرے۔
  • سعودی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب برادر ممالک کی علاقائی سالمیت کی کسی بھی خلاف ورزی کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے، اور یہ کہ علاقائی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے والی ایران ک…
  • اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے خلیج میں امریکی اثاثوں پر جوابی کارروائیاں کی گئی ہیں۔
اب تک کی صورتحال: سعودی کابینہ نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور تیل بردار بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے اور ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایسی کارروائیاں بند کرے۔ سعودی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب برادر ممالک کی علاقائی سالمیت کی کسی بھی خلاف ورزی کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے، اور یہ کہ علاق…

تازہ ترین پیش رفت: کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کے ساتھ مل کر حالیہ ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے۔

مرکزی خبر

سعودی کابینہ نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور تیل بردار بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے اور ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایسی کارروائیاں بند کرے۔ سعودی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب برادر ممالک کی علاقائی سالمیت کی کسی بھی خلاف ورزی کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے، اور یہ کہ علاقائی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے والی ایران کی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی واضح خلاف ورزی ہیں۔

یہ مذمتیں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سامنے آئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے خلیج میں امریکی اثاثوں پر جوابی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ صورتحال آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق ایک مفاہمت نامے (ایم او یو) سے شروع ہوئی تھی، جس میں یہ شرط تھی کہ ایران آزادی نیویگیشن کے تحت جہازوں کو گزرنے کا انتظام کرے گا۔ تاہم، اطلاعات کے مطابق امریکہ نے ایران کی اسٹریٹجک پوزیشن کو کمزور کرنے اور عمان کے ساحل کے قریب ایک متبادل راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی، جسے ایران نے ایم او یو کی خلاف ورزی قرار دیا، جس کے نتیجے میں کچھ بحری جہازوں پر حملے ہوئے۔

خطے کو انتہائی کشیدہ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی مبینہ طور پر ٹوٹنے کے قریب ہے، اور ایم او یو بھی ختم ہونے کے دہانے پر ہے۔ حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں، یمن میں حوثیوں کے زیر کنٹرول ایک ہوائی اڈے پر حملے کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب پر الزامات عائد کیے اور اس کے بعد سعودی اہداف پر حملے شروع کر دیے۔ یہ تصادم 2020 اور 2022 کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کے بعد حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان پہلی ایسی جھڑپ ہے۔ امریکہ نے ناکہ بندی دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ایران نے کہا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔


تازہ ترین اپڈیٹس

کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کے ساتھ مل کر حالیہ ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے۔


سعودی عرب کے علاوہ دیگر خلیجی ممالک نے بھی ایران کے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔


ذرائع اور اپڈیٹس

Latest Activity

Related Articles

ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر ٹول ٹیکس کے موقف کو تبدیل کر دیا

ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر ٹول ٹیکس کے موقف کو تبدیل کر دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر 20 فیصد لیوی عائد کرنے کے اپنے فیصلے کو تبدیل کر دیا ہے، اور اسے خلیجی ممالک کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدوں سے بدل دیا ہے۔

غیر جانبدار سرخی

غیر جانبدار سرخی

ایک نظر میں امریکی مرکزی کمانڈ نے منگل کو اعلان کیا کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف حملوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔…

آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے درمیان ایران پر امریکی بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع

آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے درمیان ایران پر امریکی بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع

امریکی سینٹ کام نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، اور ایران نے مبینہ طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ سمندری ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے۔

Responses

>