مرکزی خبر پر جائیں

نئے صوبوں پر بحث میں شدت، سیاسی تقسیم برقرار

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: نئے صوبوں پر بحث میں شدت، سیاسی تقسیم برقرار
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل کے بارے میں قومی بحث جاری ہے۔
  • جنوبی پنجاب کے رہائشی اب مطالبہ کر رہے ہیں کہ ملتان کو ممکنہ نئے صوبے کا دارالحکومت بنایا جائے۔
  • سندھ کی تقسیم کی تجویز کو صوبائی حکومت کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا ہے۔

اب تک کی صورتحال

پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے ایک قومی بحث جاری ہے، جس میں بہاولپور، جنوبی پنجاب اور ہزارہ کی تجاویز شامل ہیں۔ اگرچہ وفاقی حکومت اس پر بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اس خیال کو سیاسی مخالفت کا سامنا ہے، خاص طور پر سندھ حکومت کی جانب سے صوبے کی کسی بھی تقسیم کے حوالے سے۔ اب یہ بحث عوامی مطالبات کو شامل کرنے کے لیے پھیل گئی ہے، کچھ شہری ملازمتوں اور تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے چھوٹی اکائیوں کی وکالت کر رہے ہیں، اور جنوبی پنجاب کے رہائشیوں کی جانب سے ملتان کو نیا صوبائی دارالحکومت بنانے کا ایک مخصوص مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

عوامی بحث میں تبدیلی آئی ہے، کچھ شہریوں کا کہنا ہے کہ چھوٹے صوبے روزگار پیدا کریں گے اور تعلیم کو بہتر بنائیں گے۔ ایک خاص پیش رفت میں، جنوبی پنجاب کے رہائشی اب مطالبہ کر رہے ہیں کہ ملتان کو خطے میں کسی بھی ممکنہ نئے صوبے کا دارالحکومت نامزد کیا جائے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے عوامی بحث میں وسعت آئی ہے، اطلاعات کے مطابق شہریوں کا کہنا ہے کہ چھوٹی انتظامی اکائیاں مزید ملازمتوں اور بہتر تعلیمی مواقع کا باعث بن سکتی ہیں۔ خاص طور پر، ممکنہ جنوبی پنجاب صوبے کے لیے ہونے والی بات چیت میں، رہائشیوں نے ملتان کو اس کا دارالحکومت بنانے کا مطالبہ شروع کر دیا ہے۔

قومی مکالمے میں ایک نیا پہلو شامل کرتے ہوئے، سیاسی رہنما فواد چوہدری نے نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے جاری بحث میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ حالیہ تبصروں میں، انہوں نے اس بات پر سوال اٹھایا کہ کیا سندھ اور پنجاب جیسے موجودہ صوبوں کی تقسیم ہی واحد حل ہے، اور متبادل کے طور پر ”نئے نظام“ کا امکان ظاہر کیا۔

جمعہ 11 ستمبر کو ایک نئی پیش رفت میں، سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے مبینہ طور پر تین نئے صوبوں کی تشکیل کی تجویز دی ہے: بہاولپور، جنوبی پنجاب، اور ہزارہ۔

ان کی تقریر نے پاکستان میں نئی انتظامی اکائیاں بنانے پر جاری قومی بحث میں مخصوص تجاویز کا اضافہ کیا ہے۔

نئے صوبوں کی تشکیل پر قومی بحث میں سیکیورٹی کا پہلو بھی شامل ہو گیا ہے، جہاں کچھ لوگ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو دہشت گردی کے خاتمے سے جوڑ رہے ہیں۔ دریں اثنا، حکومتی نمائندے طارق فضل چوہدری نے بھی نئے صوبوں کے قیام کے لیے انتظامیہ کی تیاری پر ایک بیان جاری کیا ہے۔

نئے صوبوں کی تشکیل پر قومی بحث میں مختلف علاقوں سے عوامی حمایت کی اطلاعات کے ساتھ شدت آگئی ہے۔ مبینہ طور پر جنوبی خیبرپختونخوا اور فیصل آباد شہر کے رہائشیوں نے نئی انتظامی اکائیوں کے قیام کی حمایت کی ہے۔ دریں اثنا، اس معاملے پر عوامی رائے کی تفصیلات پر مبنی ایک سروے رپورٹ بھی جاری کی گئی ہے۔ سندھ میں، صوبائی وزیر سعید غنی نے خطے میں نئے صوبے کی تشکیل میں مبینہ رکاوٹوں پر تبصرہ کرتے ہوئے اس بحث میں حصہ لیا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ کی تقسیم کی کسی بھی تجویز کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خیال پہلے ہی رد کیا جا چکا ہے۔ 11 ستمبر کو ان کے تبصرے پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس بنانے کے بارے میں جاری قومی بحث کے دوران ان کے موقف کو تقویت دیتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ”دو نظام“ نہیں چل سکتے۔ انہوں نے صوبائی حدود کے معاملے پر بات کرتے ہوئے نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے جاری بحث کے دوران اپنے مؤقف کی وضاحت کی۔ انہوں نے اس معاملے کے سلسلے میں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر بھی تبصرہ کیا۔ مزید مصدقہ تفصیلات دستیاب ہونے پر پاکستان نیوز اس خبر کو اپ ڈیٹ کرے گا۔

حکومت نے اعلان کیا ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل پر پارلیمانی بحث اکتوبر میں ہوگی۔

پی پی پی رہنما قمر زمان کائرہ نے نئے صوبوں کی تشکیل پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ سے متعلق کوئی بھی فیصلہ اس کے عوام ہی کریں گے۔

نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے سیاسی بیانیے میں اس وقت شدت آگئی ہے جب اہم شخصیات نے اس بحث میں اپنی آواز شامل کی ہے۔ رانا ثناء اللہ نے عوامی سطح پر بیان دیا ہے کہ اس معاملے پر پارلیمنٹ میں باقاعدہ بحث ہونی چاہیے۔

اس کے علاوہ، محمد علی درانی نے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی سمیت کوئی بھی سیاسی جماعت نئے صوبوں کی تشکیل کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ انہوں نے اس تناظر میں آئین کے آرٹیکل 6 کا حوالہ دے کر بیان بازی کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

نئے صوبوں کی تشکیل پر بحث باضابطہ طور پر پارلیمنٹ میں شروع ہونے والی ہے، حکومت کے مطابق اس معاملے کو اکتوبر میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں کے ایجنڈے پر رکھا جائے گا۔ یہ بات ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہی ہے۔

یہ پیشرفت سیاسی بحث میں شدت آنے کے بعد ہوئی ہے، جس میں کچھ رپورٹس اس مسئلے پر ریفرنڈم کے امکان کا بھی عندیہ دے رہی ہیں۔ دستیاب تبصروں کے مطابق، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ایسی کسی بھی تجویز کی مخالفت کر سکتی ہے۔

پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل کے گرد جاری بحث میں مبینہ طور پر شدت آ گئی ہے، جس میں خاص طور پر پنجاب حکومت کے ممکنہ منصوبوں پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ اس بحث میں بھارت کے ساتھ موازنہ بھی کیا جا رہا ہے، جس نے اپنی انتظامیہ کو منظم کرنے کے لیے سالوں کے دوران اپنی ریاستوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

GNN
Pakistan Observer

Sindh’s resistance to new provinces

Ayaz Ali Sheikh THE question of creating new provinces in Pakistan is becoming increasingly controversial over time. In Sindh, in…

Pakistan Observer

The elitist state

SINCE Interior Minister Mohsin Naqvi claimed that the state system has collapsed, the debate over creating new administrative units…

Responses

>