مرکزی خبر پر جائیں

کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر پر تشدد کا کیس: عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر پر تشدد کا کیس: عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • عدالت نے ڈاکٹر محمد عارف خان ساقی پر حملے کے کیس میں فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
  • رپورٹس کے مطابق تحقیقات میں پولیس کے ابتدائی دعوے غلط ہو سکتے ہیں۔
  • مرکزی ملزم کونین شاہ اور پانچ دیگر افراد پہلے ہی گرفتار ہو چکے ہیں۔

اب تک کی صورتحال

جامعہ کراچی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان ساقی پر صفورا چورنگی کے قریب تشدد کیا گیا اور ان کی گاڑی چھین لی گئی۔ واقعے کے بعد پولیس نے مرکزی ملزم کونین شاہ سمیت چھ افراد کو گرفتار کیا۔ عدالت نے اس کیس میں اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ تاہم، 11 ستمبر کو ایک نئی پیش رفت سے پتہ چلتا ہے کہ تحقیقات کے دوران کیے گئے پولیس کے ابتدائی دعوے غلط ثابت ہوئے ہیں۔

تازہ ترین پیش رفت

گیارہ ستمبر کی رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ ڈاکٹر محمد عارف خان ساقی پر حملے کی تحقیقات میں پولیس کے پہلے کیے گئے دعوے غلط ثابت ہوئے ہیں۔ غلط دعووں کی نوعیت کے بارے میں ابھی تک تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

تازہ ترین اپڈیٹس

گیارہ ستمبر کی رپورٹس کے مطابق، تحقیقات میں پولیس کے پہلے کیے گئے دعوے غلط ثابت ہوئے ہیں۔ کن دعووں کو چیلنج کیا گیا ہے، اس کی تفصیلات ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی ہیں۔

11 ستمبر کی اطلاعات کے مطابق، ایک عدالت نے جامعہ کراچی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان ساقی پر حملے کے مقدمے میں اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

کراچی میں جامعہ کراچی کے پروفیسر عارف ساقی پر تشدد کیس میں نامزد مرکزی ملزم کونین شاہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق، خدشہ تھا کہ ملزم شہر سے فرار ہو سکتا ہے۔

جمعرات، 10 ستمبر کو ہونے والی یہ گرفتاری سندھ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی جانب سے مرکزی ملزم کی عدم گرفتاری پر برہمی کے اظہار کے بعد عمل میں آئی ہے۔

سندھ کی سینئر وزیر فریال تالپور نے جامعہ کراچی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان ساقی پر تشدد کیس کے مرکزی ملزم کی عدم گرفتاری پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ جمعرات کو سندھ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کے دوران انہوں نے سوال کیا کہ مرکزی ملزم اب تک آزاد کیوں ہے۔

رپورٹس کے مطابق، محترمہ تالپور نے متعلقہ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کو ہدایت کی کہ ملزم کو فوری گرفتار کیا جائے اور اسے فرار کا کوئی موقع نہ دیا جائے۔

جمعرات، 10 ستمبر کو ایک نئی پیشرفت میں، کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان ساقی پر حملے کے سلسلے میں پولیس نے مبینہ طور پر سندھ گرین ہوٹل کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

جمعرات، 10 ستمبر کو موصولہ اطلاعات کے مطابق، حملے کے نتیجے میں جامعہ کراچی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان ساقی کی سماعت شدید متاثر ہوئی ہے۔

جامعہ کراچی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان ساقی پر تشدد کے مقدمے میں ایک اہم پیشرفت ہوئی ہے، جس میں ایک ملزم کی ضمانت منظور کر لی گئی ہے۔ بدھ کو موصول ہونے والی اطلاعات میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ پولیس نے اس واقعے کے سلسلے میں اب تک کل پانچ ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، پاکستان مسلم لیگ فنکشنل (پی ایم ایل-ایف) نے بدھ کے روز کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان ساقی پر تشدد کے الزام میں ملوث افراد سے عوامی سطح پر لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔

بدھ کو سامنے آنے والی مزید تفصیلات کے مطابق، کیس کے سلسلے میں مزید گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔ ایک بیان میں، ڈاکٹر ساقی نے یہ بھی بتایا کہ واقعے کے دوران انہیں غیر قانونی حراست میں رکھا گیا اور وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

بدھ کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر پر تشدد کے سلسلے میں مزید دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس سے گرفتاریوں کی کل تعداد پانچ ہو گئی ہے۔ تاہم، اطلاعات کے مطابق کیس کا مرکزی ملزم تاحال مفرور ہے۔

بدھ، 9 ستمبر کو موصولہ اطلاعات کے مطابق، کراچی پولیس جامعہ کراچی کے پروفیسر پر مبینہ تشدد میں ملوث مرکزی ملزم کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہے۔

ڈاکٹر محمد عارف خان ساقی اور ان کے بھتیجے پر حملے کے سلسلے میں تین افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، تاہم مرکزی ملزم مبینہ طور پر تاحال مفرور ہے۔

وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے منگل کو جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامیات کے چیئرمین ڈاکٹر محمد عارف خان ساقی پر حملے کا نوٹس لیتے ہوئے ایسٹ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

ایک بیان میں وزیر نے ہدایت کی کہ ”اساتذہ کے وقار، عزت اور تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا“ اور واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

علاوہ ازیں، کراچی یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (KUTA) نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے سینئر پروفیسر کے خلاف تشدد کی مذمت کی۔

کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر پر حملے کے معاملے میں ایک نئی پیشرفت سامنے آئی ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ملزمان نے متاثرہ شخص کی گاڑی بھی زبردستی چھین لی۔ یہ دعویٰ مبینہ طور پر واقعے میں ملوث ایک ڈرائیور نے کیا ہے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>