بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
ایک نظر میں
- اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
- اڈیالہ جیل کی رپورٹ میں قیدِ تنہائی کی تردید، حفاظتی انتظامات اور بی کلاس سہولیات کا ذکر۔
- پی ٹی آئی نے پہلے جیل رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے عمران خان پر غیر قانونی پابندیوں کا دعویٰ کیا تھا۔
اب تک کی صورتحال
بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی نے اڈیالہ جیل میں اپنی مبینہ قیدِ تنہائی کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ (IHC) میں درخواستیں دائر کی تھیں۔ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے IHC کو ایک رپورٹ پیش کی تھی جس میں بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی کی تردید کی گئی تھی اور امتیازی سلوک کے دعوؤں کو مسترد کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ انہیں قانون کے مطابق دیگر قیدیوں کی طرح سلوک کیا جا رہا ہے، اور ان کی حفاظت کے لیے اضافی انتظامات کیے گئے ہیں۔ پی ٹی آئی نے بعد میں اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کو غیر قانونی پابندیوں کا سامنا ہے۔ IHC نے اب تمام فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد ان درخواستوں پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مبینہ قیدِ تنہائی کو غیرقانونی قرار دینے سے متعلق درخواستوں پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ عدالت ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد حکم جاری کرے گی۔
تازہ ترین اپڈیٹس
اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مبینہ قیدِ تنہائی کو غیرقانونی قرار دینے سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد یہ فیصلہ کیا اور کہا کہ اس معاملے پر بعد میں حکم جاری کیا جائے گا۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد عدالت میں پیش ہوئے جبکہ 30 جون کے عدالتی حکم پر عمل درآمد رپورٹ بھی عدالت میں جمع کرائی گئی۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو جیل میں اضافی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور انہیں کسی بھی عدالت یا مجاز اتھارٹی نے قیدِ تنہائی کی سزا نہیں دی۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو صرف رات کے چند گھنٹوں کے لیے حفاظتی مقاصد کے تحت سیل بند کیا جاتا ہے، جسے قیدِ تنہائی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ بھی بانی پی ٹی آئی کو فراہم کی جانے والی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کر چکی ہے، جبکہ انہیں بی کلاس سے بھی بہتر سہولیات میسر ہیں۔ اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ مستقل طور پر ایک سزا یافتہ مشقتی موجود رہتا ہے، اس لیے انہیں قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قیدِ تنہائی کی قانونی تعریف کے مطابق قیدی کو 24 گھنٹے مکمل طور پر سیل کے اندر تنہا رکھا جاتا ہے، جبکہ موجودہ معاملہ اس تعریف پر پورا نہیں اترتا۔
عدالت میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق بھی گفتگو ہوئی، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے علاج کا معاملہ اس مقدمے سے متعلق نہیں۔ اس پر جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے کہ اگر میڈیکل بورڈ کی رپورٹ بھی عدالت میں شامل کر دی جاتی تو بہتر ہوتا۔ بعد ازاں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں سے متعلق معاملہ پہلے ہی حل ہو چکا ہے جبکہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کی رپورٹ بھی منظرعام پر آ چکی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) میں پیش کی گئی اڈیالہ جیل کی رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے، جس میں بشریٰ بی بی کی قید سے متعلق ہے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کو غیر قانونی پابندیوں کا سامنا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے بشریٰ بی بی اور پی ٹی آئی کے بانی کے تنہائی قید کے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے پیش کی گئی جیل رپورٹ کو چیلنج کیا گیا۔
Responses