ایران کی خلیجی ریاستوں کو امریکی حملے روکنے کی وارننگ، کشیدگی میں اضافہ

0:000:00

ایک نظر میں

  • ایران نے خلیجی ریاستوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکہ کو حملے روکنے پر قائل کریں ورنہ ان کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا۔
  • امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ تنازع حل کرنے کے لیے تمام ذرائع استعمال کرے گا۔
  • ایرانی وزیر خارجہ نے یہ وارننگ علاقائی ہم منصبوں بشمول پاکستان کے آرمی چیف کو پہنچائی۔

اب تک کی صورتحال

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ وہ لوگوں کو مارنا نہیں چاہتے اور تہران کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے پہلے امریکہ میں گولہ بارود کی قلت کی رپورٹس کی تردید کی تھی، اور ملک کی مضبوط دفاعی مینوفیکچرنگ صلاحیتوں پر زور دیا تھا۔ ان بیانات کے درمیان، ایران نے اب خلیجی ریاستوں کو براہ راست وارننگ جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ امریکی حملوں کو روکنے اور مذاکرات کے ذریعے امن کو فروغ دینے کے لیے مداخلت نہیں کرتیں تو ان کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا۔ امریکی نائب صدر نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ تنازع کو حل کرنے کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرے گا۔

تازہ ترین پیش رفت

ایران نے خلیجی ریاستوں کو سخت وارننگ جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ امریکہ کو ایران پر حملے بند کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر قائل نہیں کرتیں تو ان کے اہم بنیادی ڈھانچے، بشمول تیل اور بجلی کے پلانٹس کو نشانہ بنایا جائے گا۔ یہ پیغام اعلیٰ سطحی سفارتی ذرائع سے پہنچایا گیا۔

تازہ ترین اپڈیٹس

ایران نے خلیجی ریاستوں کو واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر امریکی حملے روکنے اور مذاکرات کے ذریعے امن کی تلاش پر قائل نہیں کرتیں تو وہ ان کے تیل، بجلی اور پانی کے پلانٹس کو نشانہ بنائے گا۔ یہ وارننگ، ایک مربوط سفارتی کوشش کے ذریعے دی گئی، جس میں توانائی کی تنصیبات، تیل کے ذخائر، ریفائنریوں، بجلی کے گرڈز، پانی کے بنیادی ڈھانچے اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس پر حملوں کا تصور کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یہ پیغام اپنے سعودی، ترک اور قطری ہم منصبوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے آرمی چیف کو بھی پہنچایا۔ مستقل پیغام یہ تھا کہ ایران جوابی کارروائی کے لیے تیار ہے، لیکن وسیع تر کشیدگی سے بچنے کا بہترین طریقہ سفارتی حل تلاش کرنا ہے۔

علاحدہ طور پر، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کو حل کرنے کے لیے تمام فوجی، معاشی اور سفارتی ذرائع استعمال کرے گا۔ انہوں نے ایران کے اندر جنگ کے حوالے سے موجود اندرونی تقسیم کو تسلیم کیا اور ایک حل کی امید ظاہر کی، اگرچہ انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ عمل مشکل اور وقت طلب ہوگا۔ وینس نے یہ بھی تجویز کیا کہ کامیاب مذاکرات عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی کا باعث بن سکتے ہیں اور اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>