مرکزی خبر پر جائیں

آبنائے ہرمز ٹرانزٹ فیس پر امریکی صدر ٹرمپ کا فیصلہ واپس

آبنائے ہرمز ٹرانزٹ فیس پر امریکی صدر ٹرمپ کا فیصلہ واپس
0:000:00

اب تک کی صورتحال

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر 20 فیصد لیوی لگانے کا اپنا منصوبہ ختم کرنے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ ان کے ابتدائی طور پر فیس کی تجویز کے ایک دن بعد آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ واشنگٹن اب "آبنائے ہرمز کا محافظ" ہے اور اس کے تحفظ کے لیے چارجز عائد کرے گا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کا فیصلہ "مشرق وسطیٰ کی قیادت کے ساتھ انتہائی نتیجہ خیز بات چیت" پر مبنی تھا۔

تازہ ترین پیش رفت

رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کے ذریعے ٹرانزٹ پر ٹیکس لگانے کے ابتدائی اقدام پر بین الاقوامی سطح پر تنقید کی گئی تھی۔

تازہ ترین اپڈیٹس

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس عائد کرنے کی ابتدائی تجویز پر بین الاقوامی سطح پر تنقید کی گئی۔

تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کے بعد اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے "امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو فائدہ پہنچانے والی دیگر تمام برآمدی راہداریوں" کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ IRGC نے کہا کہ امریکہ کی دوبارہ نافذ کردہ ناکہ بندی نے تیل اور گیس کی برآمدات کو روک دیا ہے، اور امریکہ اور اتحادیوں کے مفادات کی خدمت کرنے والی راہداریوں کو بھی بند کیا جا سکتا ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ "علاقائی توانائی کی برآمدات یا تو سب کے لیے ہیں یا کسی کے لیے نہیں۔" IRGC نے یہ بھی تصدیق کی کہ آبنائے ہرمز "امریکہ کی برائیوں کے خاتمے" تک بند رہے گا۔ تجزیہ کاروں نے تجویز دی ہے کہ ایران یمن میں حوثی افواج کو باب المندب کی راہداری کو بحیرہ احمر تک بند کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے، یہ ایک ایسا حربہ ہے جو حوثیوں نے اکتوبر 2023 میں اسرائیل کے غزہ پر حملے کے بعد تجارتی جہاز رانی کے خلاف استعمال کیا تھا۔ یہ تازہ دھمکی آبنائے ہرمز کے قریب امریکی فوجی حملوں کے ایک نئے دور کے بعد سامنے آئی ہے، جسے امریکہ نے ایرانی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے قرار دیا تھا جو تجارتی جہاز رانی پر حملوں کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ امریکہ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے گزشتہ ہفتے سات تجارتی جہازوں پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں عملے کے ارکان میں ہلاکتیں ہوئیں۔ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز اور ایرانی ساحلی علاقوں کے قریب درجنوں فوجی اہداف کو سات گھنٹوں تک نشانہ بنایا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی مؤثر طریقے سے ختم ہو گئی ہے، اس سے پہلے کہ دونوں ممالک تکنیکی سطح کی بات چیت شروع کر پاتے۔ امریکی حملوں اور ایرانی جوابی کارروائیوں نے ایک ماہ قبل طے پانے والے عبوری معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ دونوں ممالک دوبارہ جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے ناکہ بندی کی بحالی کا اعلان کیا ہے، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ امریکی صدر نے کانگریس کو بھی مطلع کر دیا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع جاری ہے۔

تازہ ترین دشمنی بظاہر ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو آئل ٹینکروں پر حملوں سے شروع ہوئی جو ہدایات پر عمل کرنے میں ناکام رہے تھے۔ امریکی حملوں نے بنیادی طور پر شہری ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے، اور ٹرمپ نے ایرانی تیل کی برآمد پر دو ماہ کی پابندی میں نرمی کو منسوخ کر دیا ہے۔ امریکی سی ڈرونز نے بھی ایران پر حملہ کیا ہے۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے بعد تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے اعلان کے بعد امریکی افواج نے مسلسل تیسری رات حملے کیے ہیں۔ پیر کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی شپنگ کی ناکہ بندی بحال کر دی تھی اور ٹرانزٹ فیس کی تجویز دی تھی، لیکن بعد میں کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کے علاوہ تمام شپنگ ٹریفک کے لیے کھلا ہے۔

رپورٹس کے مطابق کویت اور بحرین میں نئے حملے اور سائرن بجنے کی اطلاعات ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس سے قبل "ہیوج ہیوٹ شو" پر کہا تھا کہ ایران کو "بہت سخت" نشانہ بنایا جائے گا۔

منگل کی شام 7 بجے کے قریب ایران کے جزیرہ قشم پر ایک امریکی پروجیکٹائل سے حملہ ہوا، اور ایک اور امریکی پروجیکٹائل ایران کے جزیرہ کیش پر پانی اور بجلی کی سہولت کے قریب پھٹا۔ جنوبی خوزستان صوبے کے اندیمشک میں ہونے والے ایک دھماکے کو بعد میں کنٹرول شدہ دھماکہ قرار دیا گیا اور اسے حملہ نہیں کہا گیا۔

اس کے علاوہ، ایران نے اردن میں ایک امریکی فوجی اڈے پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا، جبکہ بحرین نے ایرانی فضائی حملے کو ناکام بنانے کی اطلاع دی۔ اردن نے چار بیلسٹک میزائلوں کو مار گرانے کی تصدیق کی، اور بحرین کے دارالحکومت منامہ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

متحدہ عرب امارات نے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی کروز میزائلوں سے دو اماراتی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں ایک ہندوستانی عملے کا رکن ہلاک اور آٹھ دیگر زخمی ہوئے۔

ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر فیس کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ "کسی کو فیس نہیں لینی چاہیے۔"

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر 20 فیصد "یونائیٹڈ اسٹیٹس ری ایمبرسمنٹ فیس" عائد کرنے کا اپنا فیصلہ واپس لے لیا، یہ اعلان اس اقدام کے اعلان کے صرف ایک دن بعد کیا گیا۔ اس فیس کو خلیجی ممالک کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدوں سے تبدیل کیا جائے گا، جس کا مقصد واشنگٹن کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرنا ہے۔

ٹرانزٹ لیوی کو ختم کرنے کے باوجود، صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران سے منسلک بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے مکمل ناکہ بندی برقرار رکھے گا۔ یہ اقدام صرف ایرانی بندرگاہوں سے آنے یا جانے والے یا ایرانی کارگو لے جانے والے بحری جہازوں پر لاگو ہوگا۔

ایران کی فوجی قیادت نے امریکی موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس اہم آبی گزرگاہ میں امریکی مداخلت کی اجازت نہیں دے گی اور پڑوسی خلیجی ممالک کو واشنگٹن کے ساتھ تعاون نہ کرنے کی وارننگ دی۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>