ایران امریکہ بحران بڑھتی کشیدگی کے باعث مزید گہرا

Pakistan News Desk22 hours پہلے

ایک نظر میں

  • ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی عالمی معیشت کو متاثر کر رہی ہے۔
  • پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
  • دریں اثنا، ایک مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کے خاتمے کے بارے میں اعلان کیا گیا ہے۔پاکستان نیوز اس خبر پر مزید تصدیق شدہ تفصیلات سامنے آنے پر اپ ڈیٹ فراہم کرے گا۔
اب تک کی صورتحال: ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی عالمی معیشت کو متاثر کر رہی ہے۔ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تازہ ترین پیش رفت: ایران اور امریکہ کے درمیان بحران مبینہ طور پر گہرا ہو گیا ہے، جس سے کشیدگی میں اضافہ اور عالمی تشویش بڑھ رہی ہے۔

مرکزی خبر

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی عالمی معیشت کو متاثر کر رہی ہے۔ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دریں اثنا، ایک مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کے خاتمے کے بارے میں اعلان کیا گیا ہے۔

پاکستان نیوز اس خبر پر مزید تصدیق شدہ تفصیلات سامنے آنے پر اپ ڈیٹ فراہم کرے گا۔


تازہ ترین اپڈیٹس

ایران اور امریکہ کے درمیان بحران مبینہ طور پر گہرا ہو گیا ہے، جس سے کشیدگی میں اضافہ اور عالمی تشویش بڑھ رہی ہے۔ مفاہمت کی یادداشت (MOU) کی حیثیت کے بارے میں بھی سوالات سامنے آئے ہیں۔


جمعرات، 9 جولائی 2026 کو خلیجی اسٹاک مارکیٹیں مزید گراوٹ کا شکار ہو گئیں، کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان نئی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کے جذبات کو متاثر کیا۔ اطلاعات کے مطابق، ایرانی مسلح افواج نے امریکہ کے ایران کے جنوبی ساحلی اور مشرقی صوبوں پر حملوں کے بعد خلیجی ریاستوں میں امریکی فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔ اس کشیدگی نے تین ہفتوں کی جنگ بندی پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

امریکی فوج نے بتایا کہ ایران پر اس کے حالیہ حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا تھا، جب ایرانی افواج نے مبینہ طور پر علاقے میں تین آئل ٹینکروں پر حملہ کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ ان کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ عبوری جنگ بندی “ختم” ہو چکی ہے۔

برینٹ خام تیل کے فیوچرز میں 0.68 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 78.55 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔ سعودی عرب کا بینچ مارک اسٹاک انڈیکس 0.4 فیصد گرا، دبئی کا مرکزی شیئر انڈیکس 0.2 فیصد کم ہوا، اور قطر کا انڈیکس 0.8 فیصد نیچے آیا۔ اس کے برعکس، امریکی اسٹاک مارکیٹ میں معمولی اضافہ دیکھا گیا، جس کی بنیادی وجہ سیمی کنڈکٹر سیکٹر کی کارکردگی تھی، باوجود اس کے کہ تنازعہ دوبارہ شروع ہوا اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ نیس ڈیک کمپوزٹ انڈیکس 0.5 فیصد چڑھا، اور ایس اینڈ پی 500 میں 0.3 فیصد کا اضافہ ہوا، حالانکہ ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج میں 0.1 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔


مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعہ مبینہ طور پر ڈرون حملوں اور دھماکوں کے ساتھ شدت اختیار کر رہا ہے۔ یہ پیشرفت تیل کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔


بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے پیش نظر عالمی معیشت کو ایک بڑے خطرے سے خبردار کیا ہے۔


اقتصادی امور ڈویژن (EAD) نے بدھ، 8 جولائی 2026 کو ایک پارلیمانی پینل کو خبردار کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی نئی کشیدگی سے پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس میں توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت، مہنگائی میں اضافہ، بیرونی مالیاتی ضروریات میں اضافہ اور اقتصادی ترقی کی سست روی جیسے ممکنہ اثرات شامل ہیں۔ قومی اسمبلی کی اقتصادی امور ڈویژن کی قائمہ کمیٹی، جس کی سربراہی مرزا اختیار بیگ کر رہے تھے، نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ کوریائی ایکسیم بینک سے قرض حاصل کرنے سے پہلے لیاری ایلیویٹڈ فریٹ کوریڈور (LEFC) کے لیے لاگت مؤثر اختیارات کا جائزہ لے۔ کمیٹی نے کراچی گریٹر واٹر سپلائی پروجیکٹ (K-IV) میں تاخیر اور فنڈز کی کمی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

دریں اثنا، امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کے اگلے دور کا مستقبل، جو اسلام آباد میں ہونے کی توقع تھی، جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزیوں کے بعد غیر یقینی کا شکار ہے۔ امریکی فوج نے منگل، 7 جولائی 2026 کو ایران کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی اور آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں پر مبینہ طور پر حملوں کے بعد ایران کو تیل فروخت کرنے کا لائسنس منسوخ کر دیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (Centcom) نے بتایا کہ اس نے 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں اسلامی انقلابی گارڈ کور کی 60 سے زائد چھوٹی کشتیاں شامل تھیں۔ ایرانی میڈیا نے خارگ جزیرے، قشم جزیرے، سیرک اور بندر عباس میں بھی دھماکوں کی اطلاع دی۔ ایران کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمانڈ، خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹرز نے اسے “کھلی جارحیت” قرار دیتے ہوئے “دندان شکن جواب” کی دھمکی دی۔

پاکستان نیوز مزید تصدیق شدہ تفصیلات دستیاب ہونے پر اس خبر کو اپ ڈیٹ کرے گا۔


عامر احمد خان نے کہا ہے کہ ایران کے حملوں اور امریکہ کے ردعمل سے امن معاہدے کو کوئی بڑا دھچکا لگنے کی توقع نہیں ہے۔ علیحدہ طور پر، تجزیہ کار شہزاد چوہدری نے تبصرہ کیا ہے کہ ایران اپنی قیمت بڑھا رہا ہے۔

پاکستان نیوز اس خبر پر مزید تصدیق شدہ تفصیلات سامنے آنے پر اپ ڈیٹ کرے گا۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Latest Activity

Related Articles

Responses

>