ایران پر امریکی حملے دوسرے روز بھی جاری، ہلاکتوں اور ہسپتال پر حملے کی اطلاعات
ایک نظر میں
- 2026-07-08 کو امریکی فوج نے ایران میں 80 مقامات پر تازہ حملے کیے۔
- ان کارروائیوں کے نتیجے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
- ایران کے خلاف امریکی فوجی حملے دوسرے روز بھی جاری رہے، 9 جولائی 2026 کو شدید بمباری کی اطلاع ملی ہے۔
مرکزی خبر
2026-07-08 کو امریکی فوج نے ایران میں 80 مقامات پر تازہ حملے کیے۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
ایران کے خلاف امریکی فوجی حملے دوسرے روز بھی جاری رہے، 9 جولائی 2026 کو شدید بمباری کی اطلاع ملی ہے۔ دستیاب رپورٹوں کے مطابق، ان کارروائیوں کے دوران ہلاکتیں ہوئی ہیں اور ایک ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ذرائع: Dawn News Such News 24 News HD Express News
سرکاری ٹیلی ویژن نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ امریکی حملوں کے بعد تہران اور مشہد کے درمیان ٹرین سروس معطل کر دی گئی ہے۔ یہ معطلی مرحوم سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی مشہد میں تدفین سے چند گھنٹے قبل ہوئی۔
اسلامی جمہوریہ ایران ریلوے نے اس معطلی کو راستے پر “امریکی-اسرائیلی دشمن کے مجرمانہ حملے” سے منسوب کیا اور بتایا کہ مرمتی ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں۔ پھنسے ہوئے مسافروں کے لیے سڑک کے ذریعے نقل و حمل کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل، ایران کے پاسداران انقلاب نے امریکہ پر الزام لگایا تھا کہ اس نے خامنہ ای کے جنازے کو متاثر کرنے کی کوشش میں “مشرقی صوبوں میں مشہد کی طرف جانے والے دو پلوں” کو نشانہ بنایا۔
خامنہ ای مبینہ طور پر 28 فروری کو امریکی-اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہوئے تھے، جس سے مشرق وسطیٰ کی جنگ شروع ہوئی تھی۔ اگرچہ واشنگٹن اور تہران نے جنگ بندی اور طویل مدتی امن معاہدے کے لیے ایک مفاہمت کی یادداشت پر اتفاق کیا تھا، لیکن جمعرات کو مسلسل دوسری رات فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے تقریباً 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی اطلاع دی، جبکہ پاسداران انقلاب نے کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا۔
پاکستان نیوز اس خبر کو مزید تصدیق شدہ تفصیلات دستیاب ہونے پر اپ ڈیٹ کرے گا۔
ذرائع: Business Recorder
امریکہ کے حالیہ حملوں میں ایک بحری اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے۔ یہ اطلاع اسماعیل بقائی نے فراہم کی ہے۔
ذرائع: Such News
امریکی سینٹرل کمانڈ نے بدھ، 8 جولائی 2026 کو تصدیق کی ہے کہ امریکی فوج ایران پر نئے حملے کر رہی ہے۔ یہ کارروائیاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد کی گئی ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کا عبوری معاہدہ “ختم” ہو چکا ہے۔ ان حملوں کا مقصد خاص طور پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ وہ اس اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں تجارتی جہاز رانی اور شہری عملے کے خلاف حالیہ غیر منصفانہ جارحیت کے لیے ایران کو جوابدہ ٹھہرا رہا ہے۔
ذرائع: Business Recorder ARY News
ایران پر “امریکی حملے” یا “امریکہ کے ایران پر حملے” کی اطلاعات ہیں، جس کے نتیجے میں امریکہ-ایران جنگ کے آغاز کے بارے میں خدشات اور قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں۔ ساجد تارڑ نے ان پیش رفت کے سلسلے میں ممکنہ “بڑے پیمانے پر تباہی” کے بارے میں دعوے کیے ہیں۔
اس بارے میں بحث جاری ہے کہ ایران پر امریکی حملے کا منصوبہ کب بنایا گیا تھا اور کیا کوئی سابقہ “معاہدہ” واقعی ختم ہو چکا ہے۔ بڑھتے ہوئے ایران-امریکہ تنازعے کے حوالے سے “آج رات ایک بڑے حملے” اور “ٹرمپ اور نیتن یاہو کے منصوبے” کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں ہیں۔
پاکستان نیوز اس خبر پر مزید مصدقہ تفصیلات سامنے آنے پر اپ ڈیٹ فراہم کرے گا۔
ذرائع: GNN BOL News Capital TV
2026-07-08 کو امریکی فضائی حملوں کے بعد ایران نے جوابی حملہ کیا ہے۔ یہ پیشرفت امریکی فوج کی کارروائیوں کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں ایران میں 80 مقامات پر حملے شامل تھے۔
ذرائع: Such News Express News ARY News
8 جولائی 2026 کو امریکی فوج کے ایران پر بڑے پیمانے پر حملوں کے بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا انتباہ جاری کیا ہے۔
ذرائع: Dunya News
2026-07-08 کو ایران پر امریکی فوجی حملوں کے بعد، ایران نے کہا ہے کہ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کے کچھ حصے غیر مؤثر ہو گئے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی ان امریکی کارروائیوں پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔
ذرائع: Dawn News ARY News Express News
دستیاب اطلاعات کے مطابق، امریکہ نے ایران پر حملے کیے ہیں۔
ان مبینہ امریکی کارروائیوں کے جواب میں، ایران نے ایک بیان جاری کیا ہے۔
ایرانی صدر نے بھی ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازعات کے حوالے سے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر ایک بیان دیا ہے۔
پاکستان نیوز اس خبر کو مزید تصدیق شدہ تفصیلات سامنے آنے پر اپ ڈیٹ کرے گا۔
ایران نے خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں پر جوابی حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ذرائع: 24 News HD
بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان، ایران نے مبینہ طور پر امریکی حملوں کے بعد جوابی کارروائی کی ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق، 8 جولائی 2026 کو امریکی فضائی حملوں نے قشم، سیرک اور بندر عباس کو نشانہ بنایا۔ ایران نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایک امریکی MQ-9 ڈرون تباہ کر دیا گیا ہے اور ایک نئی فوجی وارننگ جاری کی ہے۔
ذرائع: Samaa TV Capital TV 24 News HD
جاری کشیدگی کے درمیان، ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہ پر امریکی حملوں کی ایک ویڈیو جاری کی ہے۔
ذرائع: Such News 24 News HD Express News
بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان، ایران کے پاسداران انقلاب نے حالیہ امریکی حملوں کے بعد وارننگ جاری کی ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق، امریکہ نے 8 جولائی 2026 کو ایران پر ایک اور حملہ کیا، اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ حملے ٹرمپ کے حکم پر کیے گئے تھے۔ جواب میں، ایران نے 85 امریکی اہداف پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔
تین تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد امریکہ نے ایران پر حملے کیے ہیں۔ جواب میں، ایران نے امریکی حملے کے بعد فیصلہ کن ردعمل دینے کا اعلان کیا ہے۔
ذرائع: 24 News HD Dunya News


Responses