مرکزی خبر پر جائیں

جعلی حمل کیس: ہمدرد ہسپتال کے خلاف غفلت کی تحقیقات

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: جعلی حمل کیس: ہمدرد ہسپتال کے خلاف غفلت کی تحقیقات
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • کراچی میں 'لاپتہ نومولود' کی رپورٹ کے بعد خاتون نے جعلی حاملہ ہونے کا اعتراف کر لیا۔
  • ہمدرد ہسپتال کے خلاف اس کیس میں مجرمانہ غفلت کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
  • پولیس خاتون کو سماجی دباؤ کا 'سماجی شکار' سمجھ رہی ہے۔

اب تک کی صورتحال

کراچی کے ہمدرد ہسپتال میں مبینہ طور پر لاپتہ نومولود کا تنازعہ ایک خاتون کے جعلی حاملہ ہونے کے اعتراف کے بعد حل ہو گیا ہے۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ اس نے بے اولاد ہونے کے سماجی طعنوں سے بچنے کے لیے جھوٹ بولا تھا۔ ہسپتال کی حالت کی تصدیق کیے بغیر اسے سرجری کے لیے داخل کرنے پر اب مجرمانہ غفلت کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ پولیس خاتون کو 'سماجی شکار' سمجھ رہی ہے اور میڈیکل کمیشن کی رپورٹ کا انتظار کر رہی ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

ناظم آباد جعلی حمل کیس میں ملوث نجی ہسپتال کی شناخت ہمدرد ہسپتال کے نام سے ہوگئی ہے۔ پولیس مبینہ طور پر اپنے ٹیسٹ کیے بغیر جعلی الٹراساؤنڈ کی بنیاد پر خاتون کو سی سیکشن کے لیے تیار کرنے پر مجرمانہ غفلت کی تحقیقات کر رہی ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

دستیاب اطلاعات کے مطابق، ناظم آباد میں جعلی حمل کیس کے مرکز میں موجود نجی ہسپتال کی شناخت ہمدرد ہسپتال کے نام سے ہوئی ہے۔

ناظم آباد کے نجی اسپتال میں مبینہ طور پر نوزائیدہ بچے کے لاپتہ ہونے کے تنازع نے ڈرامائی موڑ اختیار کر لیا ہے، کیونکہ کیس کے مرکز میں موجود خاتون نے جعلی حاملہ ہونے کا اعتراف کر لیا ہے۔ پولیس کو دیے گئے ایک بیان میں خاتون نے اعتراف کیا کہ اس نے بے اولاد ہونے کے سماجی دباؤ اور طعنوں سے بچنے کے لیے حاملہ ہونے کا جھوٹ بولا تھا، خاص طور پر ایک سال قبل اسقاط حمل کے بعد۔

اعتراف کے بعد، پولیس نے اسپتال کے خلاف مجرمانہ غفلت کی تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔ حکام اس بات کی جانچ کر رہے ہیں کہ اسپتال کے عملے نے خاتون کو اپنے تصدیقی ٹیسٹ کیے بغیر داخل کیوں کیا اور سی سیکشن کے لیے کیوں تیار کیا، مبینہ طور پر اس کی فراہم کردہ جعلی الٹراساؤنڈ رپورٹ کی بنیاد پر کارروائی کی۔

29 اگست کو ایک نئی پیش رفت میں، نجی ہسپتال کے شعبہ امراضِ نسواں کی سربراہ ڈاکٹر انجم آرا حسن نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا جس میں ہسپتال کے مؤقف کو دہرایا گیا۔ ڈاکٹر حسن نے کہا کہ طبی معائنے اور سرکاری میڈیکو لیگل رپورٹس سے اب یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ خاتون حاملہ نہیں تھیں۔

انہوں نے مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ مریضہ پہلی بار فروری میں آئی تھیں اور انہوں نے تین ماہ کی حاملہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن اس وقت کیے گئے الٹراساؤنڈ کا نتیجہ منفی آیا تھا۔ ڈاکٹر حسن کے مطابق، مریضہ نے بعد میں ایک دوسرے ہسپتال کی الٹراساؤنڈ رپورٹ پیش کی جس میں حمل ظاہر کیا گیا تھا، اور ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں آنے کے بعد ان بیرونی رپورٹس کی بنیاد پر آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔ ہسپتال کا مؤقف ہے کہ آپریشن کے بعد ہی معلوم ہوا کہ وہ حاملہ نہیں تھیں۔

29 اگست کی معلومات کے مطابق، مبینہ طور پر میڈیکل رپورٹ کے حصول میں تاخیر کی وجہ سے اس کیس کی پولیس تفتیش میں رکاوٹ آ رہی ہے۔

کراچی پولیس نے ناظم آباد کے ایک نجی اسپتال میں پیش آنے والے متنازعہ کیس کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جہاں ایک خاندان نے انتظامیہ پر ان کے نومولود بچے کو غائب کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

نومولود بچے کے غائب ہونے کی تحقیقات کے مرکز میں موجود نجی اسپتال نے باضابطہ طور پر اہل خانہ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ایک تفصیلی جوابی بیانیہ پیش کیا ہے۔ گائناکالوجی ڈپارٹمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر انجم آرا حسن نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ میڈیکو لیگل آفیسر کی رپورٹ نے پہلے ہی تصدیق کر دی ہے کہ خاتون حاملہ نہیں تھیں۔

ڈاکٹر حسن نے الزام لگایا کہ مریضہ نے داخلے کے وقت کسی دوسرے ادارے کی جعلی الٹراساؤنڈ رپورٹ پیش کی تھی۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ خاتون نے اس سے قبل فروری میں اسپتال کا دورہ کیا تھا، جس وقت الٹراساؤنڈ میں حمل کی رپورٹ منفی آئی تھی۔

اسپتال کے ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ وہ اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا ڈلیوری کے لیے آنے والی مریضہ ان سے مختلف تھی جو پچھلے چیک اپ کے لیے آتی رہی تھیں۔ انتظامیہ مبینہ طور پر نو ماہ تک کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہے۔ خاتون کے حاملہ ہونے کی حتمی تصدیق کے لیے میڈیکل ٹیسٹ کرائے گئے ہیں، جن کی رپورٹس چند دنوں میں متوقع ہیں۔

کراچی کے ایک نجی ہسپتال سے نوزائیدہ بچے کی گمشدگی کے معاملے میں مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں، اور اب تحقیقات میں مبینہ طور پر اس امکان کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ حمل خود جعلی تھا۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق، حکام جعلی الٹراساؤنڈ اور میڈیکل رپورٹس کے دعوؤں کی چھان بین کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک باقاعدہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

کراچی کے علاقے ناظم آباد میں جس نجی اسپتال سے نومولود بچے کے مبینہ طور پر لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے، اس کی شناخت ہمدرد اسپتال کے نام سے ہوئی ہے۔

لاپتہ نومولود کے والد کی شناخت کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن کے رہائشی راشد کے نام سے ہوئی ہے۔

Responses

تازہ ترین فیکٹ چیکس

Nawai Waqt

کراچی: ہسپتال سے زچگی کے دوران نومولود بچے کے غائب ہونے کا معاملہ، شعبہ امراض نسواں کی سربراہ کا ویڈیو بیان جاری

ناظم آباد کے نجی ہسپتال سے زچگی کے دوران نومولود بچے کے غائب ہونے کے معاملے پر ہسپتال کی شعبہ امراضِ نسواں کی سربراہ ڈاکٹر انجم آرا حسن کا ویڈیو بیان سامنے آگیا۔

>