مرکزی خبر پر جائیں

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بشریٰ بی بی کی تنہائی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بشریٰ بی بی کی تنہائی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا
0:000:00

ایک نظر میں

  • اسلام آباد ہائی کورٹ نے بشریٰ بی بی اور عمران خان کی مبینہ تنہائی کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔
  • اڈیالہ جیل نے تنہائی کی تردید کی، کہا کہ بشریٰ بی بی کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جاتا ہے۔
  • پی ٹی آئی نے جیل رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے، غیر قانونی پابندیوں کا دعویٰ کیا ہے۔

اب تک کی صورتحال

اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مبینہ تنہائی کو غیر قانونی قرار دینے کی درخواستوں پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ اڈیالہ جیل حکام نے تنہائی کی تردید کرتے ہوئے فراہم کردہ سہولیات کی تفصیلات پیش کیں، یہ کہتے ہوئے کہ بشریٰ بی بی کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جاتا ہے۔ تاہم، پی ٹی آئی نے اس جیل رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ عمران خان کو غیر قانونی پابندیوں کا سامنا ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مبینہ تنہائی کو غیر قانونی قرار دینے کی درخواستوں پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جس کا فیصلہ جمع کرائے گئے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد متوقع ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مبینہ قیدِ تنہائی کو غیرقانونی قرار دینے سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد یہ فیصلہ کیا اور کہا کہ اس معاملے پر بعد میں حکم جاری کیا جائے گا۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد عدالت میں پیش ہوئے جبکہ 30 جون کے عدالتی حکم پر عمل درآمد رپورٹ بھی عدالت میں جمع کرائی گئی۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو جیل میں اضافی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور انہیں کسی بھی عدالت یا مجاز اتھارٹی نے قیدِ تنہائی کی سزا نہیں دی۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو صرف رات کے چند گھنٹوں کے لیے حفاظتی مقاصد کے تحت سیل بند کیا جاتا ہے، جسے قیدِ تنہائی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ بھی بانی پی ٹی آئی کو فراہم کی جانے والی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کر چکی ہے، جبکہ انہیں بی کلاس سے بھی بہتر سہولیات میسر ہیں۔ اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ مستقل طور پر ایک سزا یافتہ مشقتی موجود رہتا ہے، اس لیے انہیں قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قیدِ تنہائی کی قانونی تعریف کے مطابق قیدی کو 24 گھنٹے مکمل طور پر سیل کے اندر تنہا رکھا جاتا ہے، جبکہ موجودہ معاملہ اس تعریف پر پورا نہیں اترتا۔

عدالت میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق بھی گفتگو ہوئی، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے علاج کا معاملہ اس مقدمے سے متعلق نہیں۔ اس پر جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے کہ اگر میڈیکل بورڈ کی رپورٹ بھی عدالت میں شامل کر دی جاتی تو بہتر ہوتا۔ بعد ازاں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں سے متعلق معاملہ پہلے ہی حل ہو چکا ہے جبکہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کی رپورٹ بھی منظرعام پر آ چکی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) میں پیش کی گئی اڈیالہ جیل کی رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے، جس میں بشریٰ بی بی کی قید سے متعلق ہے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کو غیر قانونی پابندیوں کا سامنا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے بشریٰ بی بی اور پی ٹی آئی کے بانی کے تنہائی قید کے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے پیش کی گئی جیل رپورٹ کو چیلنج کیا گیا۔

Responses

تازہ ترین فیکٹ چیکس

Nawai Waqt

بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی کیس، دلائل مکمل، فیصلہ محفوظ

اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی مبینہ قیدِ تنہائی کو غیرقانونی قرار دینے سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے دوران فریقین کے دلائل مکمل ہو گئے. جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر بعد میں حکم جاری کیا جائ

>
0سکے

Share story