مرکزی خبر پر جائیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایک طویل فون کال کی ہے، جس میں مبینہ طور پر یوکرین جنگ میں ممکنہ شدت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پیر کو تہران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔ اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک دعوے پر عالمی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔
ایک زیادہ ٹھوس دعوے میں، ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کے دوران ایرانی قیادت کو نشانہ بنا سکتا تھا۔
روس نے یوکرین پر حملہ کر دیا ہے، جسے رپورٹس میں "بڑے پیمانے پر حملے" قرار دیا گیا ہے۔ اس پیش رفت نے ممکنہ عالمی جنگ کے بارے میں عوامی تبصروں کو جنم…

مرکزی خبر دستیاب اطلاعات کے مطابق، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں ایران کو “کچھ مالی وسائل” فراہم کرنے کا امکان ظاہر…

مرکزی خبر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ماضی کے ایک تنازع کے حوالے سے نیا دعویٰ کیا ہے۔ دستیاب رپورٹس…

>