مرکزی خبر پر جائیں

ٹرمپ کی مزید حملوں کی دھمکی، امریکہ-ایران تنازعے سے عالمی شپنگ متاثر

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: ٹرمپ کی مزید حملوں کی دھمکی، امریکہ-ایران تنازعے سے عالمی شپنگ متاثر
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • امریکی صدر ٹرمپ نے حالیہ فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایران کے خلاف مزید حملوں کا عزم ظاہر کیا ہے۔
  • امریکہ کے لیے پاکستانی برآمد کنندگان کے شپنگ اخراجات میں کچھ راستوں پر 200 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
  • تیل کی قیمتیں بلند ہیں، جس پر ٹرمپ نے ایندھن کے اخراجات پر قابو پانے کے لیے امریکی آئل ایگزیکٹوز سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔

اب تک کی صورتحال

امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی تنازع 31 اگست کو ایران کے جزیرہ لارک پر امریکی فضائی حملے کے بعد شدت اختیار کر گیا، جس کے بارے میں واشنگٹن نے کہا کہ اس نے IRGC افواج کو نشانہ بنایا۔ ایران نے جواب میں اردن میں امریکی اڈوں پر بیلسٹک میزائل داغے۔ اگرچہ IRGC نے جانی نقصان کا دعویٰ کیا، امریکہ نے کسی بھی نقصان کی اطلاع نہیں دی۔ تنازعے نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں خلل ڈالا ہے، بحری سرنگوں اور مار گرائے گئے ڈرونز کی اطلاعات ہیں، جس سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سفارتی حل پر زور دیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے اور وینزویلا کے تیل کے ذخائر سے فائدہ اٹھا کر اور صنعت کے رہنماؤں سے ملاقات کرکے گھریلو ایندھن کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تازہ ترین پیش رفت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ”سخت حملہ“ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جبکہ وہ تنازعے کی وجہ سے بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے آئل ایگزیکٹوز سے ملاقات کی تیاری کر رہے ہیں۔ جنگ کے معاشی اثرات پاکستانی برآمد کنندگان پر پڑ رہے ہیں، امریکہ کے لیے شپنگ کے اخراجات میں 200 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کا عزم ظاہر کرتے ہوئے ایک رپورٹر کو بتایا، ”ہم ان پر سخت حملہ کریں گے۔“ یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان ایک ماہ میں پہلی براہ راست فائرنگ کے تبادلے کے بعد سامنے آیا۔ ایک سینئر ایرانی ذریعے نے اس تبادلے کو ”محدود اور قابو میں تصادم“ قرار دیا لیکن خبردار کیا کہ دوبارہ حملہ ہونے پر سخت جواب دیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز بھی پوسٹ کیں جن میں ایران کے مرکزی تیل برآمدی ٹرمینل جزیرہ خارک پر دھماکے دکھائے گئے تھے، جس کے ساتھ پیغام تھا ”جزیرہ خارک کو ٹکڑے ٹکڑے کیا جا رہا ہے!!!“ ایران نے اس پوسٹ کو ”مضحکہ خیز“ قرار دے کر مسترد کر دیا، اور ایسے کسی حملے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے رپورٹرز کو بتایا کہ صدر ”سوشل میڈیا پر تھوڑا سا انداز بدلنا پسند کرتے ہیں“ اور ”ایک پیغام بھیج رہے تھے۔“

تنازعے کے معاشی اثرات پاکستانی برآمد کنندگان کو متاثر کر رہے ہیں، امریکہ کے لیے کچھ راستوں پر شپنگ کے اخراجات میں 200 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن آف پاکستان (SMAP) کے بانی چیئرمین اسماعیل ستار نے کہا کہ کراچی سے نیویارک تک ایک کنٹینر جس کی قیمت پہلے تقریباً 2,000 ڈالر تھی، اب 8,000 سے 9,000 ڈالر بتائی جا رہی ہے، جس سے امریکی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

واشنگٹن میں، صدر ٹرمپ منگل کو نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایندھن کی بلند قیمتوں پر قابو پانے کے لیے آئل ریفائننگ ایگزیکٹوز سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ بات چیت میں ریفائننگ کی صلاحیت بڑھانے اور امریکیوں کے لیے اخراجات کم کرنے پر توجہ دی جائے گی۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پیر کو کہا ہے کہ حالیہ کشیدگی میں اضافے کے باوجود تہران امریکہ کے ساتھ اپنے تنازعے کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ بیان امریکی فضائیہ کے جزیرہ لارک پر حملے اور ایران کے جوابی حملوں کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔

کرغزستان میں ایک علاقائی سکیورٹی اجلاس کے موقع پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے گفتگو کرتے ہوئے پزشکیان نے کہا کہ موجودہ مسائل کا حل بات چیت اور تعاون میں ہے۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، انہوں نے امریکہ پر ماضی کے وعدوں کا احترام نہ کرنے کا الزام لگایا لیکن اس بات پر زور دیا کہ مسلسل جنگ نہ تو خطے اور نہ ہی عالمی برادری کے مفاد میں ہے۔

سفارت کاری کی یہ اپیل ایک کشیدہ فوجی کارروائی کے بعد سامنے آئی ہے۔ ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ امریکی حملوں میں اسلامی پاسداران انقلاب کور (IRGC) کے ان ارکان کو نشانہ بنایا گیا جو آبنائے ہرمز میں راکٹ اور بحری بارودی سرنگیں نصب کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔ اس کے جواب میں ایران کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اردن میں اس کے حملوں میں لارک آپریشن میں ملوث امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ IRGC نے خلیج میں ایک امریکی ڈرون کو مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا اور بتایا کہ آبنائے ہرمز میں دو بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد ایک سپر ٹینکر میں آگ لگ گئی۔

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی تنازعے نے عالمی مالیاتی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس کی وجہ سے پیر کو امریکہ اور خلیجی ممالک کے اسٹاک انڈیکس میں گراوٹ دیکھنے میں آئی۔

خلیج میں، دبئی، ابوظہبی، قطر اور سعودی عرب کی اسٹاک مارکیٹوں میں نقصانات ریکارڈ کیے گئے کیونکہ نئی فوجی کارروائی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا۔ متحدہ عرب امارات نے پیر کو یہ بھی اطلاع دی کہ اس کی فضائیہ نے اپنی علاقائی حدود میں ایک ڈرون کو روکا جو ایران سے آیا تھا۔

دریں اثنا، رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کا اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (SPR)، جو بحرانوں کے دوران تیل کی قیمتوں کو منظم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے، 1982 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر ہے۔ سالوں کی ریلیز کے بعد، ریزرو میں صرف 289.7 ملین بیرل ہیں، جس سے واشنگٹن کی تیل کی منڈیوں کو پرسکون کرنے کی صلاحیت نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ وینزویلا کا تیل استعمال کرکے ریزرو کو دوبارہ بھرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

یہ معاشی گراوٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران مبینہ طور پر شدید اندرونی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، تجزیہ کاروں نے تنازع شروع ہونے کے بعد سے سکڑتی ہوئی معیشت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ملازمتوں کے اہم نقصانات کی نشاندہی کی ہے۔

ایران نے پیر، 31 اگست کو اپنے لارک جزیرے پر امریکی فضائی حملے کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ امریکی حملے کا جواب ہے جس میں اس کے بقول متعدد اہلکار اور شہری ہلاک ہوئے تھے۔

امریکی اور اردنی حکام کے مطابق، اردن کے فضائی دفاعی نظام نے موفق السلطی ایئر بیس کو نشانہ بنانے والے بیشتر میزائلوں کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا اور کسی امریکی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

اس کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔ ایک متعلقہ پیشرفت میں، امریکی محکمہ خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ تہران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے بینکوں کو نشانہ بناتے ہوئے ہفتہ وار نئی پابندیاں عائد کرے گا۔

اتوار، 31 اگست کو دستیاب اطلاعات کے مطابق، امریکہ نے مبینہ طور پر ایران کے خلاف نئے فوجی حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں مزید ایرانی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ تازہ ترین حملوں کے بعد، ایران نے امریکہ کو سخت انتباہ جاری کیا ہے، جس میں اس کے صدر نے ”دو ٹوک جواب“ دیا ہے اور دیگر حکام نے ”جارحانہ اقدامات“ کے جواب میں ”تباہ کن انتقام“ اور ”مناسب جواب“ دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

بڑھتے ہوئے تنازعے کے پیش نظر، عالمی خام تیل کی قیمتوں نے مبینہ طور پر ایک بڑا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ دریں اثنا، ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو ”بڑے پیمانے پر نقصان“ پہنچایا ہے، اس دعوے کی ابھی تک آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

بعد ازاں ایک پیشرفت میں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کی ایک ویڈیو جاری کی، جس کے بارے میں بعض اطلاعات میں اب یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کی گئی تھی۔

ایک اہم پیشرفت میں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں مبینہ طور پر ایران کے جزیرہ لارک پر امریکی حملہ دکھایا گیا ہے۔

حملے کے بعد، ایران نے خطے میں امریکی اتحادیوں کو ایک وارننگ جاری کی ہے، تاہم اس وارننگ کی مخصوص نوعیت واضح نہیں ہے۔ یہ پیشرفت آبنائے ہرمز کے قریب ابتدائی امریکی ڈرون حملے کے بعد ہوئی ہے جس کے بارے میں امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایرانی میزائل لانچ پوزیشنوں کو نشانہ بنایا۔

مزید رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ ایران کے جزیرہ لارک پر امریکی فوجی کارروائی ڈرون کے ذریعے کی گئی۔

ایک امریکی اہلکار نے مبینہ طور پر دعویٰ کیا ہے کہ جزیرہ لارک پر فضائی حملے میں ایران کے اسلامی پاسداران انقلاب کور (IRGC) کے دو راکٹ لانچر تباہ کر دیے گئے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Business Recorder

Trump vows to hit Iran hard after first exchanges of fire in a month

DUBAI/ASHEVILLE, (North Carolina): US President Donald Trump on Monday promised further strikes against Iran after the first tit-for-tat attacks in a month, as a conflict that had lately settled into an economic standoff threatened to escalate into o

Business Recorder

Trump to meet US oil execs as Iran war keeps price high

WASHINGTON: US President Donald Trump will meet oil refining executives on Tuesday as he tries to tame gas prices sent spiraling by the Iran war ahead of midterm elections in November, the White House said. The talks at the White House also come days

Business Recorder

Shipping costs to US surge by 200pc

KARACHI: Shipping costs for Pakistani exporters to the United States have surged by more than 200 percent on some routes, as fallout from the Iran war disrupts shipping lanes and drives up war-risk insurance and fuel costs. A container shipment from

GNN
GNN
Business Recorder

Wall St slips as higher oil prices, hawkish Fed bets weigh

The main U.S. stock indexes dropped on Monday after military strikes between the United States and Iran drove up oil prices, fanning inflation worries after Fed Chair Kevin Warsh’s hawkish remarks in his first Jackson Hole address the previous week.

Business Recorder

Gulf bourses slip as Iran-US escalation dents risk appetite

BENGALURU: The Dubai stock market led Gulf stocks lower on Monday as renewed military action between the U.S. and Iran near the Strait of Hormuz weighed on risk appetite. American forces struck two Iranian launchers on Larak Island in the Strait of H

Nawai Waqt

کیا ایران آبنائے ہرمز سے اپنا اثر و رسوخ کھو رہا ہے

ایران اور امریکا کے درمیان جاری طویل جنگ کے بارے میں یہ تاثر سامنے آ رہا تھا کہ ایران نے امریکا اور اسرائیل کی شدید فوجی کارروائیوں کے باوجود دباؤ برداشت کرکے برتری حاصل کرلی ہے. تاہم تازہ صورتِ حال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔

Nawai Waqt

ایرانی جزیرے لارک پر امریکی حملے، پاسدارانِ انقلاب کا متعدد اہلکاروں اور شہریوں کی شہادت کا دعویٰ

امریکی فوج نے پیر کے روز ایران کے لارک جزیرے پر موجود دو راکٹ لانچرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے. جس کے جواب میں پاسدارانِ انقلاب نے اردن میں موجود امریکی اڈے پر میزائل داغ دیے۔

GNN

Responses

>