مرکزی خبر پر جائیں
0سکے

ہراسانی قانون کے تحت کارروائی کے لیے جنسی عنصر ضروری ہے، وفاقی آئینی عدالت

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: ہراسانی قانون کے تحت کارروائی کے لیے جنسی عنصر ضروری ہے، وفاقی آئینی عدالت
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ، ہراسانی کیس کے لیے 'جنسی عنصر' لازمی قرار۔
  • جنسی عنصر کے بغیر شکایات وفاقی محتسب کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔
  • یہ فیصلہ بینک افسران سے متعلق کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے سنایا گیا۔

اب تک کی صورتحال

یہ کیس اس وقت شروع ہوا جب وفاقی محتسب نے دو بینک افسران کو ہراسانی پر برطرف کر دیا تھا۔ بعد ازاں صدر پاکستان نے اس سزا کو سرزنش میں تبدیل کر دیا تھا۔ تاہم، اسلام آباد ہائی کورٹ نے صدر کے حکم کو کالعدم قرار دے کر برطرفی بحال کر دی تھی، جس کے بعد وفاقی آئینی عدالت میں اپیل دائر کی گئی۔

تازہ ترین پیش رفت

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ کام کی جگہ پر ہراسانی کے قانون کے تحت کسی شکایت پر کارروائی کے لیے 'جنسی عنصر' کا ہونا ضروری ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ہر نامناسب رویہ جنسی ہراسانی کے زمرے میں نہیں آتا، اور ایسے معاملات وفاقی محتسب کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔

Responses

تازہ ترین فیکٹ چیکس

>

Share story