مرکزی خبر پر جائیں
0سکے

کے پی کے وزیر اعلیٰ آفریدی کی گورنر کنڈی کے اجلاس پر تنقید، غیر آئینی اور جمہوریت پر حملہ قرار

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: کے پی کے وزیر اعلیٰ آفریدی کی گورنر کنڈی کے اجلاس پر تنقید، غیر آئینی اور جمہوریت پر حملہ قرار
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے گورنر کنڈی کے سکیورٹی اجلاس کو 'غیر آئینی' قرار دیا ہے۔
  • آفریدی گورنر کے اقدام پر قانونی رائے طلب کر رہے ہیں، ممکنہ طور پر مواخذے کے لیے۔
  • گورنر کے اجلاس میں سکیورٹی، جرائم اور 16 لاکھ افغان شہریوں کی واپسی کا جائزہ لیا گیا۔

اب تک کی صورتحال

خیبرپختونخوا میں گورنر فیصل کریم کنڈی کی جانب سے چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل کے ساتھ صوبے کی سکیورٹی صورتحال پر اجلاس منعقد کرنے کے بعد ایک سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اس اجلاس کو 'غیر آئینی' اقدام اور 'جمہوریت پر حملہ' قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت کو دو تہائی اکثریت حاصل ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ وہ گورنر کے اقدام کے حوالے سے ایڈووکیٹ جنرل سے قانونی رائے طلب کریں گے، ممکنہ طور پر مواخذے کے لیے، اور انہوں نے صوبائی حکام کو کسی بھی غیر قانونی حکم پر عمل نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

گورنر فیصل کریم کنڈی کے سکیورٹی اجلاس سے تفصیلات سامنے آئی ہیں، جس میں امن و امان، دہشت گردی اور جرائم کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے گورنر کو بریفنگ دی کہ 45 افغان مہاجر کیمپ بند کر دیے گئے ہیں اور 16 لاکھ افغان شہریوں کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت ہونے والے سکیورٹی اجلاس کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں، جس پر صوبے کے وزیر اعلیٰ نے شدید تنقید کی تھی۔ اجلاس کے دوران پولیس حکام نے گورنر کو احتجاجی سرگرمیوں اور امن و امان کی عمومی صورتحال پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں صوبے میں دہشت گردی، امن و امان اور جرائم کا جائزہ لیا گیا۔

بریفنگ کے مطابق، 45 افغان مہاجر کیمپ بند کر دیے گئے ہیں اور 16 لاکھ افغان شہریوں کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔ گورنر کو پولیس کو درپیش چیلنجز، بشمول وسائل، افرادی قوت اور انفراسٹرکچر کے مسائل سے بھی آگاہ کیا گیا۔ جواب میں، گورنر کنڈی نے امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کی صلاحیتوں کو بڑھانے اور ان کے درمیان روابط کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ آفریدی نے یہ بھی کہا کہ وہ مواخذے کی کارروائی کے حوالے سے ایڈووکیٹ جنرل سے مشاورت کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی متعلقہ قانون موجود نہیں ہے تو صوبائی اسمبلی اس معاملے پر قانون سازی کرے گی تاکہ ان کے بقول ''جمہوریت پر حملے'' کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔

Responses

تازہ ترین فیکٹ چیکس

>

Share story