پاکستان یومِ استحصال کشمیر پر کشمیریوں سے یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے

0:000:00

ایک نظر میں

  • پاکستان 5 اگست کو یومِ استحصال کشمیر کے طور پر مناتا ہے۔
  • پارلیمنٹ نے بھارت کے 2019 کے اقدامات کے خلاف کشمیریوں کے لیے حمایت کا اعادہ کیا۔
  • خطے کی خصوصی حیثیت کی منسوخی بحث اور تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔

اب تک کی صورتحال

پاکستان کی پارلیمنٹ نے 5 اگست کو یومِ استحصال کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام کے لیے اپنی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کیا، جو بھارت کی جانب سے 2019 میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی سالگرہ ہے۔ یہ دن پورے پاکستان میں کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے اور بھارتی حکومت کے اقدامات پر تنقید کا اعادہ کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔ پارلیمانی قرارداد کشمیر کے دیرینہ مسئلے پر پاکستان کے مسلسل سرکاری موقف کو نمایاں کرتی ہے۔ ان مشاہدات کے سلسلے میں، فیصل آباد میں ایک ریلی نکالی گئی اور انقرہ اور باکو میں پاکستان کے سفارت خانوں نے بھی یومِ استحصال کشمیر کے موقع پر خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا، جس سے بین الاقوامی سطح پر کشمیری عوام کے ساتھ ملک کی یکجہتی میں مزید اضافہ ہوا۔

تازہ ترین پیش رفت

پاکستان 5 اگست کو یومِ استحصال کشمیر کے طور پر منانا جاری رکھے ہوئے ہے، جس میں کشمیری عوام کے لیے اپنی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کیا جاتا ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی کے سات سال بعد بھی، بھارتی زیر انتظام جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت سیاسی بحث، سفارتی تشویش اور علاقائی غیر یقینی کی صورتحال کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اگرچہ بھارت نے اس اقدام کو اندرونی آئینی معاملہ قرار دیا تھا، لیکن اس کے اثرات گھریلو سیاست سے کہیں زیادہ تھے، جس نے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کشمیر سے متعلق قراردادوں کے بارے میں بنیادی سوالات اٹھائے۔ غیر معمولی سیکیورٹی لاک ڈاؤن، سیاسی رہنماؤں کی حراست، شہری آزادیوں اور میڈیا پر پابندیوں کے باوجود، اختلاف رائے کو خاموش نہیں کیا جا سکا۔ کشمیر میں طویل سیکیورٹی اقدامات، کارکنوں کی گرفتاریاں، آزاد صحافت پر پابندیاں، اور آبادیاتی انجینئرنگ کے الزامات سامنے آئے ہیں، ناقدین کا کہنا ہے کہ ان پالیسیوں کا مقصد خطے کی آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنا اور کشمیر تنازعہ کی تاریخی بنیاد کو کمزور کرنا ہے۔ جموں و کشمیر ایک انتہائی سیکیورٹی والا اور سیاسی طور پر متنازعہ خطہ بنا ہوا ہے، جو لاکھوں کشمیریوں کی امنگوں میں جڑی ایک غیر حل شدہ جدوجہد کی علامت ہے۔

پشاور بھی یوم استحصال کشمیر کی ملک گیر تقریبات میں شامل ہو گیا ہے، جس سے کشمیری عوام کے ساتھ ملک کی یکجہتی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان کے انقرہ اور باکو میں سفارتخانوں نے بھی یوم استحصال کشمیر کو خصوصی تقریبات کے ساتھ منایا، جس سے کشمیری عوام کے ساتھ ملک کی عالمی سطح پر یکجہتی کو مزید وسعت ملی۔

یوم استحصال کشمیر کے سلسلے میں فیصل آباد میں ایک ریلی کا انعقاد کیا گیا، جو 5 اگست کو کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے منایا جاتا ہے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Dawn News - Youtube
24 News HD - Youtube

Responses

>