مرکزی خبر پر جائیں

کراچی ہڑتال کے دوران تشدد اور گرفتاریوں کے بعد کارروائی کا مطالبہ

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: کراچی ہڑتال کے دوران تشدد اور گرفتاریوں کے بعد کارروائی کا مطالبہ
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • کراچی میں جماعت اسلامی کی کال پر ہڑتال کے باعث کاروبار بند اور تشدد کے واقعات پیش آئے۔
  • آتش زنی اور تصادم کے واقعات کے بعد گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔
  • اب وزیر اعلیٰ سندھ سے شٹ ڈاؤن نافذ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

اب تک کی صورتحال

کراچی میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف جماعت اسلامی کی کال پر شٹر ڈاؤن ہڑتال کے نتیجے میں بڑی مارکیٹیں بند رہیں اور متفرق تشدد کے واقعات پیش آئے۔ ان واقعات میں لانڈھی میں تصادم اور کورنگی کراسنگ پر آتش زنی شامل ہے، جس کے بعد کئی گرفتاریاں ہوئیں۔ اگرچہ جماعت اسلامی کراچی کے امیر نے ہڑتال کو کامیاب قرار دیا، سندھ حکومت کے حکام نے ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو خبردار کیا۔ اب وزیر اعلیٰ سے شٹ ڈاؤن نافذ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

ہڑتال کے بعد، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ شہر بھر میں شٹ ڈاؤن نافذ کرنے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

تازہ ترین اپڈیٹس

کراچی میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کے دوران بے امنی اور متفرق تشدد کے ایک دن کے بعد، سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ سے شہر کو زبردستی بند کروانے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔

کراچی میں ہڑتال اور کہیں کہیں پرتشدد واقعات کے بعد جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر نے احتجاج کو کامیاب قرار دیا ہے۔ شٹر ڈاؤن ہڑتال پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی کے خلاف کی گئی تھی۔

ذرائع اور اپڈیٹس

GNN

Responses

>