ڈی جی آئی ایس پی آر: بلوچستان آپریشنز میں 42 شہید، 54 دہشت گرد ہلاک

Pakistan News Desk1 hour پہلے

ایک نظر میں

  • بلوچستان میں دہشت گردی کی ایک نئی لہر کی اطلاع ملی ہے، جس کے بعد ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
  • ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) نے صورتحال پر بات کرنے کے لیے ایک پریس کانفرنس کی، جس میں گزشتہ چار دنوں کے دوران بلوچستان میں پیش آنے والے واقعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔چیف آف …
  • شہید اہلکاروں کے اہل خانہ کوئٹہ میں دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اب تک کی صورتحال: بلوچستان میں دہشت گردی کی ایک نئی لہر کی اطلاع ملی ہے، جس کے بعد ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) نے صورتحال پر بات کرنے کے لیے ایک پریس کانفرنس کی، جس میں گزشتہ چار دنوں کے دوران بلوچستان میں پیش آنے والے واقعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔چیف آف …

مرکزی خبر

بلوچستان میں دہشت گردی کی ایک نئی لہر کی اطلاع ملی ہے، جس کے بعد ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) نے صورتحال پر بات کرنے کے لیے ایک پریس کانفرنس کی، جس میں گزشتہ چار دنوں کے دوران بلوچستان میں پیش آنے والے واقعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

چیف آف آرمی سٹاف (سی ڈی ایف) عاصم منیر نے سرحد پار سے آنے والی دہشت گردی کو “پوری طاقت” سے کچلنے کا عزم کیا ہے۔

پاکستان نیوز اس خبر پر مزید مصدقہ تفصیلات سامنے آنے پر اپ ڈیٹ فراہم کرے گا۔


تازہ ترین اپڈیٹس

شہید اہلکاروں کے اہل خانہ کوئٹہ میں دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دہشت گردی کی لہر کے بعد، وزیر اعظم شہباز نے کوئٹہ میں ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔ ایپکس کمیٹی نے پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور اہم سکیورٹی فیصلے کیے۔


ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) نے بتایا ہے کہ گزشتہ چار دنوں کے دوران بلوچستان میں 42 افراد شہید ہوئے اور 54 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔


ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) نے بلوچستان میں جاری ایک بڑے انسداد دہشت گردی آپریشن کا انکشاف کیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان کی صورتحال کے حوالے سے ایک سخت بیان بھی جاری کیا، جس میں خطے میں حملوں کے حوالے سے پاکستان آرمی کا دشمنوں کو جواب شامل تھا۔


رپورٹس کے مطابق، بلوچستان میں سرحد پار عسکریت پسندی کے نتیجے میں 42 افراد شہید ہوئے ہیں۔ صورتحال کے پیش نظر، ندیم ملک نے ان کیمرہ اجلاس کی تجویز پیش کی ہے۔


صوبے میں ہونے والے مہلک دہشت گردی کے واقعات کے بعد پاکستان فوج نے بلوچستان کی صورتحال کے حوالے سے “حتمی وارننگ” جاری کر دی ہے۔ یہ پیشرفت بلوچستان میں فوج کی حکمت عملی پر جاری بحث کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔

قبل ازیں، چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سرحد پار سے پھیلنے والی دہشت گردی کو “پوری طاقت” سے کچلنے کا عزم ظاہر کیا تھا، اور سرحد پار دہشت گردی کو شکست دینے کے ریاستی عزم کا اعادہ کیا تھا۔

پاکستان نیوز اس خبر پر مزید تصدیق شدہ تفصیلات سامنے آنے پر اپ ڈیٹ فراہم کرے گا۔


چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سرحد پار دہشت گردی اور دشمن انٹیلی جنس کی حمایت یافتہ پراکسی نیٹ ورکس کو ریاست کی پوری طاقت سے شکست دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے جدید اور ہائبرڈ جنگی خطرات سے نمٹنے کے لیے تیاری کی ضرورت پر زور دیا۔

دریں اثنا، انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے انکشاف کیا کہ 5 جولائی سے بلوچستان میں 42 شہری اور سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے ہیں۔ ان میں چار شہری، 27 پولیس اہلکار اور 11 فوجی شامل ہیں۔ اسی عرصے کے دوران، مختلف کارروائیوں میں 54 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Latest Activity

Related Articles

Responses

>