ڈی جی آئی ایس پی آر کا بلوچستان میں پروپیگنڈا اور لاپتہ افراد کے معاملے پر اظہار خیال
ایک نظر میں
- ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان کے حوالے سے منفی پروپیگنڈا کو اجاگر کیا۔
- قبائلی سرداروں اور اشرافیہ کو بگڑتی ہوئی صورتحال میں ملوث عناصر کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔
- صوبے میں لاپتہ افراد اور سماجی و اقتصادی تفاوت کے بارے میں خدشات برقرار ہیں۔
اب تک کی صورتحال
ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف جہلی نے کہا ہے کہ بلوچستان کی صورتحال کے حوالے سے جان بوجھ کر منفی پروپیگنڈا پھیلایا جاتا ہے، جس میں قبائلی سرداروں اور اشرافیہ کو ملوث عناصر کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ گروہ مطالبات پورے نہ ہونے پر دہشت گردی کی دھمکیاں دیتے ہیں اور صوبے کی منفی تصویر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، پرانے استحصال کے نظام کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی اجاگر کیا کہ لاپتہ افراد مختلف مقامات پر پائے جاتے ہیں اور اکثر دہشت گردی کے واقعات میں مارے جاتے ہیں۔ ایک تجزیہ کار نے سکیورٹی آپریشنز کے بعد دہشت گردی میں اضافے کا مشاہدہ کیا اور ایسے عناصر کے ابھرنے پر سوال اٹھایا، یہ تجویز کرتے ہوئے کہ یہ مسئلہ صرف فوجی کارروائیوں سے حل نہیں ہو سکتا۔ بلوچستان میں نمایاں سماجی و اقتصادی تفاوت، بشمول کم شرح خواندگی اور زیادہ غربت کی شرح، صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
ڈی جی آئی ایس پی آر نے حال ہی میں بلوچستان میں لاپتہ افراد کے بیانیے پر ردعمل دیا ہے اور صوبے کی سیاسی نمائندگی پر سوال اٹھایا ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) نے بلوچستان میں لاپتہ افراد کے گرد گھومنے والے بیانیے پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اس کے علاوہ، ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان کی سیاسی نمائندگی پر بھی سوال اٹھائے ہیں، جس سے صوبے کے چیلنجز کے مزید پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔
Responses