امام اور رضوان کیخلاف تحقیقات کا مرکز مالی معاملات، بینک اکاؤنٹس کی چھان بین
ایک نظر میں
- کرکٹرز کے خلاف این سی سی آئی اے کی تحقیقات اب مالی لین دین اور بینک اکاؤنٹس پر مرکوز ہے۔
- تحقیقات کا آغاز مبینہ ڈریسنگ روم لیکس پر پی سی بی کی شکایت سے ہوا۔
- کھلاڑیوں کے موبائل فونز کا فرانزک تجزیہ ڈیٹا کو مالی سرگرمیوں سے جوڑنے کے لیے جاری ہے۔
اب تک کی صورتحال
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی شکایت کے بعد، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے قومی کرکٹرز امام الحق اور محمد رضوان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا۔ ابتدائی طور پر تحقیقات کا مرکز حالیہ ٹیسٹ سیریز کے دوران مبینہ ڈریسنگ روم لیکس تھے۔ ایجنسی نے کھلاڑیوں سے پوچھ گچھ کی اور ان کے موبائل فونز کو فرانزک تجزیے کے لیے قبضے میں لے لیا۔ اب تحقیقات کا دائرہ ان کی مالی سرگرمیوں تک بڑھا دیا گیا ہے، اور تفتیش کار سیریز کے دوران بینک اکاؤنٹس اور لین دین کی چھان بین کر رہے ہیں۔
تازہ ترین پیش رفت
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) اب اپنی تحقیقات میں بنیادی طور پر کرکٹرز امام الحق اور محمد رضوان کی مالی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق تحقیقات میں ان کے بینک اکاؤنٹس اور حالیہ انگلینڈ سیریز سے پہلے اور بعد میں کی گئی کسی بھی مشکوک ادائیگی کی جانچ شامل ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق تحقیقات اب بنیادی طور پر مالی معاملات اور مشکوک لین دین پر مرکوز ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حالیہ انگلینڈ سیریز سے پہلے اور بعد میں کھلاڑیوں کی مالی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں کرکٹرز کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تفتیش کار فنڈز کے ذرائع اور منتقلی کے وصول کنندگان کا تعین کرنے کے لیے لین دین کا جائزہ لے رہے ہیں۔ کمپنیوں، افراد یا تنظیموں کی جانب سے کی گئی کوئی بھی مبینہ مشکوک ادائیگیاں بھی جانچ کا حصہ ہیں۔
اطلاعات ہیں کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کھلاڑیوں کے موبائل فون سے حاصل کردہ ڈیٹا، بشمول پیغامات اور رابطوں، کو مالی تحقیقات سے جوڑ رہی ہے۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے کرکٹرز امام الحق اور محمد رضوان سے پوچھ گچھ کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق، دونوں کھلاڑیوں سے جمعرات کو لاہور کے جوہر ٹاؤن تھانے میں تقریباً دو گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق، تحقیقات کا مرکز حالیہ انگلینڈ سیریز کے دوران پریکٹس سیشنز اور میچز میں ان کے رابطوں اور ملاقاتوں پر تھا۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ این سی سی آئی اے نے امام اور رضوان سمیت کل تین کھلاڑیوں کو نوٹس جاری کیے تھے۔ ایجنسی سے توقع ہے کہ وہ مبینہ ڈریسنگ روم لیکس کی تحقیقات کے حصے کے طور پر کھلاڑیوں کے ضبط شدہ موبائل فونز کو ان لاک کرے گی۔
مزید رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ تحقیقات کے دائرہ کار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اور کچھ میڈیا میں ڈریسنگ روم لیکس کی ابتدائی شکایت کے علاوہ میچ فکسنگ کے الزامات کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تحقیقات کے مکمل دائرہ کار پر سرکاری تصدیق کا ابھی انتظار ہے۔
قومی کرکٹرز امام الحق اور محمد رضوان سے جمعرات کو لاہور میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے تقریباً چار گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ یہ تحقیقات پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے باضابطہ شکایت کے بعد شروع کی گئی، جس کی سربراہی محسن نقوی کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ NCCIA ملک کے وزیر داخلہ کی حیثیت سے بھی جناب نقوی کو رپورٹ کرتی ہے۔ ذرائع کے مطابق، دونوں کھلاڑیوں نے تحقیقاتی ایجنسی کو اپنے تحریری جوابات جمع کرانے کے لیے مزید وقت مانگا ہے۔ تحقیقات کا مرکز انگلینڈ کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز کے دوران ڈریسنگ روم سے مبینہ لیکس پر ہے۔
قومی کرکٹرز امام الحق اور محمد رضوان سے مبینہ ڈریسنگ روم لیکس کی جاری تحقیقات کے سلسلے میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے پوچھ گچھ کی ہے۔ جمعرات کو موصول ہونے والی رپورٹس میں تصدیق کی گئی ہے کہ ایجنسی کھلاڑیوں کے موبائل فونز کے ڈیٹا کی چھان بین کر رہی ہے، جو اس سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اپنی تحویل میں لیے تھے۔
جمعرات کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کرکٹرز امام الحق اور محمد رضوان کے خلاف جاری تحقیقات کا تعلق مبینہ طور پر ٹیم کے ڈریسنگ روم سے ہونے والی لیکس سے ہے۔ دونوں کھلاڑی لاہور میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے سامنے پیش ہوئے، جہاں ذرائع نے بتایا کہ تحقیقات کا آغاز پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے کھلاڑیوں کے ضبط شدہ موبائل فونز ایجنسی کے حوالے کرنے کے بعد کیا گیا۔
مزید رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ کرکٹرز امام الحق اور محمد رضوان کے خلاف تحقیقات حال ہی میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ٹیم کی خراب کارکردگی کے پس منظر میں ہو رہی ہیں۔ پہلے دو میچوں میں بھاری شکست کے بعد اسکواڈ سے ڈراپ کیے گئے سات کھلاڑیوں میں یہ دونوں کھلاڑی بھی شامل تھے۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی طرف سے کی جانے والی انکوائری میں مبینہ طور پر ان کے موبائل فونز کے ڈیٹا کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جنہیں پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) نے پہلے ہی اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی سی بی نے ایک قومی سلیکٹر سے امام اور رضوان کی ٹیسٹ اسکواڈ میں ابتدائی شمولیت کے حوالے سے تحریری وضاحت طلب کی ہے۔
قومی کرکٹرز امام الحق اور محمد رضوان جمعرات کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق لاہور میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے سامنے پیش ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کھلاڑیوں نے ایجنسی کی پوچھ گچھ پر اپنے باقاعدہ تحریری جوابات جمع کرانے کے لیے مزید وقت مانگا ہے۔
ذرائع اور اپڈیٹس
NCCIA conducts forensic analysis of Imam, Rizwan phones to check financial transactions
LAHORE – The National Cyber Crime Investigation Agency (NCCIA) is conducting a forensic analysis of the mobile phones of cricketers…
رضوان اور امام الحق سے 2گھنٹے تک تفتیش ، ملاقاتوں پر سوالات
کرکٹر محمد رضوان اورامام الحق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے )کے سامنے پیش ہوگئے ، دونوں کھلاڑیوں نے جواب دینے کیلئے وقت مانگ لیا۔
NCCIA quizzes cricketers over ‘dressing room leaks’
LAHORE: In an unprecedented development, two players from the national cricket side appeared before the National Cyber Crime Investigation Agency (NCCIA) in connection with an investigation into alleged dressing-room leaks during the recent England s
Imam-ul-Haq, Rizwan face NCCIA Probe after England Test Debacle
LAHORE – Pakistan cricket was already reeling from bruising England Test series, but the drama has now taken an unexpected turn.…
این سی سی آئی اے نے امام الحق اور محمد رضوان کو طلب کرلیا
نیشنل سائبرکرائم انویسٹی گشن ایجنسی (این سی سی اے) نے قومی کرکٹرز کو طلب کرلیا۔
یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ امید ہے کہ تحقیقات شفاف اور منصفانہ طریقے سے کی جائیں گی تاکہ سچ سامنے آسکے اور کھلاڑیوں کے حقوق کا بھی خیال رکھا جائے۔
Bilkul sahi kaha. It’s important to follow the process. Lekin is tarah ki khabrain team aur players ki reputation ke liye achi nahi hain. Let’s hope for a quick and just resolution.
Yeh Pakistan cricket ke liye tashweeshnaak khabar hai. Agar sangeen ilzamaat hain to tehqiqat zaroori hai, lekin is amal ko intehai ehtiyat se handle karna hoga. Khiladiyon aur khel ki saakh daao par lagi hai.
بالکل درست۔ مجھے اس بات پر تجسس ہے کہ اس معاملے میں قانونی طریقہ کار کیا ہے۔ کیا پی سی بی یا کسی ایجنسی کے پاس کھلاڑیوں کے فونز کو اس طرح تحویل میں لینے کا اختیار ہے؟ شفافیت بہت اہم ہے۔
Aap ka nuqta ahem hai. Is sab ke beech, humein yeh bhi yaad rakhna chahiye ke yeh khiladi kitne pressure mein honge. Investigation ka nateeja jo bhi ho, unki zehni sehat par is ka asar par sakta hai.
It is important to distinguish between the team’s performance and this specific investigation. The article links them, but correlation is not causation. We should wait for the facts to emerge from the authorities.