27 ستمبر کے احتجاج سے قبل پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری
ایک نظر میں
- پی ٹی آئی 27 ستمبر کو اسلام آباد میں بڑے احتجاج کا منصوبہ رکھتی ہے۔
- مبینہ طور پر پارٹی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے ہیں۔
- حکام دارالحکومت کے ریڈ زون کو سیل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
اب تک کی صورتحال
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں ایک احتجاج کی کال دی ہے، جسے بانی عمران خان کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے ایک حتمی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ پارٹی کا اصرار ہے کہ مظاہرہ پرامن ہوگا، حکومتی اہلکاروں نے ممکنہ بدامنی سے خبردار کیا ہے۔ جواب میں، راولپنڈی اور اسلام آباد کی انتظامیہ نے وسیع تیاریاں شروع کر دی ہیں، جن میں ہزاروں سیکیورٹی اہلکاروں اور ریڈ زون اور دیگر اہم مقامات کو سیل کرنے کے لیے 1,000 سے زائد شپنگ کنٹینرز کی درخواست شامل ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
11 ستمبر کی اطلاعات کے مطابق، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے ہیں کیونکہ پارٹی 27 ستمبر کو ایک بڑے احتجاج کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
11 ستمبر کی اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے ہیں۔ یہ پیشرفت اس وقت ہوئی ہے جب پارٹی 27 ستمبر کو اسلام آباد میں اپنے منصوبہ بند احتجاج سے پیچھے ہٹنے سے انکاری ہے۔ پارٹی اس مظاہرے کے لیے اپنی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے کے لیے اجلاس منعقد کر رہی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کو ہونے والے منصوبہ بند احتجاج سے قبل، سیاسی شخصیت رانا ثناء اللہ نے پارٹی کو ایک انتباہ جاری کیا ہے۔ اس کے علاوہ، اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ 16 ستمبر کو ایک سماعت کرنے والی ہے، جس کے بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ موجودہ سیاسی صورتحال سے متعلق ہے۔
نئی اطلاعات کے مطابق 27 ستمبر کو ہونے والے منصوبہ بند احتجاج سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے لیے ایک 'خفیہ مقام کا منصوبہ' تیار کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کی تفصیلات منظر عام پر نہیں لائی گئیں۔
بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران، پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے مبینہ طور پر پارٹی کے منصوبہ بند لانگ مارچ اور اس کی قیادت کی ممکنہ گرفتاریوں کے حوالے سے ایک عوامی اعلان کیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کے مجوزہ احتجاج سے قبل پارٹی کے خلاف کریک ڈاؤن میں مبینہ طور پر شدت آ گئی ہے، اور اب اطلاعات ہیں کہ پارٹی رہنماؤں کو گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ پیشرفت راولپنڈی انتظامیہ کے ان پہلے اقدامات کے بعد سامنے آئی ہے جس میں 30 پارٹی کارکنوں کے لیے نظربندی کے احکامات پہلے ہی جاری کیے جا چکے تھے۔
راولپنڈی اور اسلام آباد کی انتظامیہ نے 27 ستمبر کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ملک گیر احتجاج سے نمٹنے کے لیے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق راولپنڈی انتظامیہ نے پی ٹی آئی کے 30 کارکنوں کے لیے نظربندی کے احکامات جاری کیے ہیں۔
دارالحکومت میں، پولیس نے مبینہ طور پر ریڈ زون، ہائی سیکیورٹی زون اور شہر کے داخلی و خارجی راستوں کو سیل کرنے کے لیے 1,000 سے زائد شپنگ کنٹینرز کی درخواست کی ہے۔ یہ کنٹینرز مظاہرین کو روکنے کے لیے اہم شاہراہوں کو بلاک کرنے کے لیے بھی استعمال کیے جائیں گے۔ فیض آباد اور ترنول سمیت مختلف مقامات پر 100 سے زائد کنٹینرز پہلے ہی پہنچا دیے گئے ہیں۔
ایک سیکیورٹی پلان بھی تیار کیا جا رہا ہے، جس میں امن و امان کی صورتحال کو سنبھالنے کے لیے پنجاب اور سندھ پولیس کے ساتھ ساتھ فیڈرل کانسٹیبلری اور رینجرز کے 15,000 سے زائد اہلکاروں کی طلبی کا امکان ہے۔ پولیس کے اینٹی رائٹ یونٹ کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
منصوبہ بند مظاہرے سے قبل، پی ٹی آئی کے سینئر رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ پنجاب 27 ستمبر کے احتجاج کے لیے تیار ہے۔ تاہم، دستیاب اطلاعات کے مطابق لانگ مارچ کے نقطہ آغاز کے بارے میں مخصوص تفصیلات پر ابھی بھی بات چیت جاری ہے۔
حکومتی خدشات کے جواب میں، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما جنید اکبر نے اس بات کی ضمانت دی ہے کہ 27 ستمبر کو پارٹی کے منصوبہ بند مظاہرے کے دوران مظاہرین اسلحہ نہیں اٹھائیں گے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ احتجاج پرامن ہوگا۔
وفاقی حکومت کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا 27 ستمبر کو ہونے والا منصوبہ بند احتجاج 9 مئی کے واقعات جیسا ہوگا۔ اس بیان نے اس احتجاج کے گرد پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس کا اعلان پی ٹی آئی رہنماؤں نے پارٹی بانی عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے کیا ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے منصوبہ بند لانگ مارچ سے منسلک سیکیورٹی خطرات سے خبردار کیا ہے، اور یہ قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ حکومت احتجاج پر پابندی عائد کر سکتی ہے یا اس سے پہلے پی ٹی آئی کے اہم رہنماؤں کو گرفتار کر سکتی ہے۔
ذرائع اور اپڈیٹس
Twin cities prepare strategy to counter PTI’s Sept 27 protest
ISLAMABAD: The administrations of the twin cities of Rawalpindi and Islamabad have started preparations to counter the PTI’s announced countrywide protest, including a request for detention of activists, arranging containers, seeking additional perso
Responses