مرکزی خبر پر جائیں

پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) میں سیاسی اتحاد کا اعلان

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) میں سیاسی اتحاد کا اعلان
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) نے باضابطہ طور پر سیاسی اتحاد کا اعلان کر دیا ہے۔
  • دونوں جماعتوں نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مشترکہ اپوزیشن بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
  • صوبائی معاملات پر غور کے لیے ایک آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانے کا منصوبہ ہے۔

اب تک کی صورتحال

ابتدائی بات چیت کے بعد، بیرسٹر گوہر خان اور اسد قیصر پر مشتمل پی ٹی آئی کے وفد نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے نتیجے میں دونوں جماعتوں نے باضابطہ سیاسی اتحاد کا اعلان کیا۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مشترکہ اپوزیشن بنانے پر اتفاق کیا ہے اور صوبائی مسائل پر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا منصوبہ ہے۔ یہ پیشرفت پی ٹی آئی کی جانب سے جے یو آئی (ف) کو 'تحفظ آئین' تحریک میں شامل ہونے کی دعوت کے بعد ہوئی ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) نے پارلیمنٹ میں مشترکہ اپوزیشن بنانے پر اتفاق کرتے ہوئے سیاسی اتحاد کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ پی ٹی آئی کے وفد کی جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد کیا گیا۔

تازہ ترین اپڈیٹس

جمعہ کو وفود کے درمیان ملاقات کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جمعیت علمائے اسلام ف (جے یو آئی-ف) نے باضابطہ طور پر سیاسی اتحاد کا اعلان کر دیا ہے۔

مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے بتایا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن بنانے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی معاملات پر بات چیت کے لیے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلائی جا رہی ہے۔

جے یو آئی رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت میں اے پی سی اور بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن (جے یو آئی-ف) کے وفود کے درمیان ملاقات کے بعد دونوں جماعتوں نے سیاسی اتحاد کا اعلان کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ اعلان پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان اور جے یو آئی کے رہنما مولانا غفور حیدری نے مشترکہ طور پر کیا۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>