مرکزی خبر پر جائیں
0سکے

طلال چوہدری نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کو قرار دے دیا

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: طلال چوہدری نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کو قرار دے دیا
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • طلال چوہدری نے مذاکرات کی ناکامی کا براہ راست ذمہ دار وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کو ٹھہرایا ہے۔
  • چوہدری نے آفریدی پر جان بوجھ کر مذاکرات میں حصہ نہ لینے کا الزام لگایا۔
  • حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اس کے پاس پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے نمٹنے کے لیے 'انتظامات' ہیں۔

اب تک کی صورتحال

پی ٹی آئی کے جاری لانگ مارچ کے دوران حکومت اور اپوزیشن ممکنہ مذاکرات پر اختلافات کا شکار ہیں۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اب واضح طور پر مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کو ٹھہراتے ہوئے ان پر جان بوجھ کر اس عمل سے دور رہنے کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ چوہدری کی جانب سے پہلے دی گئی انتباہات کے بعد سامنے آیا ہے کہ حکومت کی 'نرمی ختم ہوچکی ہے'۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ کوئی بھی بامعنی مذاکرات ان کے بانی عمران خان کی شمولیت پر منحصر ہیں۔

تازہ ترین پیش رفت

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے مذاکرات کی ناکامی کا براہ راست ذمہ دار خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ٹھہرایا ہے، اور ان پر جان بوجھ کر مذاکرات میں حصہ نہ لینے کا الزام عائد کیا ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کا واضح طور پر ذمہ دار خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ٹھہرایا ہے۔ 7 اکتوبر کو ایک بیان میں، چوہدری نے آفریدی پر جان بوجھ کر مذاکرات میں حصہ نہ لینے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس عمل کے دوران اپوزیشن کی طرف سے تشدد کے معاملے کو نظر انداز کیا گیا۔

وزیر مملکت برائے اطلاعات طلال چوہدری نے 6 اکتوبر کو بیان دیا کہ اگرچہ مذاکرات حکومت کی 'پہلی ترجیح' ہیں، لیکن آئینی اقدامات بھی زیر غور ہیں۔ حزب اختلاف کو بظاہر سخت پیغام دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نرمی کا وقت ختم ہو گیا ہے اور حکومت نے 'سیاسی اور آئینی بندوبست' کر لیا ہے۔ چوہدری نے خبردار کیا، 'اب ان کی غلط فہمی دور ہو جائے گی، اور دوبارہ کبھی کوئی مارچ نہیں ہوگا۔' انہوں نے مزید کہا کہ 'سیاسی گنجائش دینا ممکن ہے'، لیکن دہشت گردوں کی سرپرستی 'ناقابل قبول' ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے، لیکن 'بگڑے ہوئے بچوں کو سیدھا بھی کرتی ہے۔'

مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری نے اپوزیشن پر حکومت کے ساتھ حالیہ مذاکرات کو جان بوجھ کر سبوتاژ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ 6 اکتوبر کو ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن کے وفد نے اپنی پارٹی کے اندر اور سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید سے بچنے کے لیے جان بوجھ کر مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ڈالی۔

چوہدری نے بتایا کہ مذاکرات کے پہلے دن دونوں فریقین کے درمیان انسداد دہشت گردی اور دیگر سیاسی امور سے متعلق ایک بنیادی فریم ورک پر اتفاق رائے ہو گیا تھا۔ تاہم، انہوں نے الزام لگایا کہ جب اپوزیشن کی ٹیم نے پشاور میں خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سے مشاورت کی تو آخری لمحات میں نئی شرائط پیش کی گئیں، جس سے کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا ناممکن ہو گیا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کو جان بوجھ کر سبوتاژ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ 6 اکتوبر کو بات کرتے ہوئے، چوہدری نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے پہلے دن دونوں فریقین نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت انسداد دہشت گردی کے اقدامات پر اتفاق رائے کر لیا تھا۔

تاہم، انہوں نے الزام لگایا کہ جب اپوزیشن کے وفد نے پشاور میں وزیر اعلیٰ کے پی سے مشاورت کی تو مذاکرات پٹڑی سے اتر گئے۔ چوہدری کے مطابق، وزیر اعلیٰ کے پی نے آخری لمحات میں نئی شرائط پیش کیں، جس کی وجہ سے مذاکرات کا نتیجہ خیز مرحلے تک پہنچنا ناممکن ہو گیا۔

چوہدری نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں بغیر کسی واقعے کے بڑے عوامی اجتماعات کیسے کر لیتی ہے، جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں اور شہریوں کو انہی علاقوں میں شدید سکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔ انہوں نے ایک 'مشترکہ مفاد' کے امکان کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 11 سالوں میں ٹی ٹی پی یا دیگر عسکریت پسند گروپوں نے پی ٹی آئی کے کسی رہنما پر حملہ نہیں کیا، جبکہ دیگر تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

6 اکتوبر 2026 کی رپورٹس کے مطابق، حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان ممکنہ مذاکرات کو نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد سے منسلک کیا جا سکتا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری نے اس معاملے پر تبصرہ کیا، جبکہ اطلاعات کے مطابق بات چیت میں سہیل آفریدی نامی شخص کا کیس بھی شامل ہے۔ مجوزہ معاہدوں یا شرائط کی صحیح نوعیت غیر مصدقہ ہے، لیکن یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسداد دہشت گردی کی پالیسی مستقبل میں کسی بھی مذاکرات کا مرکزی نقطہ ہوگی۔

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے اعلان کیا ہے کہ حکومت اپوزیشن بشمول پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ رابطے پہلے سے جاری ہیں، لیکن رسمی بات چیت اس وقت دوبارہ شروع ہو سکتی ہے جب اپوزیشن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 'مثبت پیشرفت' کی یقین دہانی کرائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ عسکری اور سیاسی قیادت کا فیصلہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ، جسے انہوں نے پاکستان پر مسلط کردہ جنگ قرار دیا، کو ایک فیصلہ کن نتیجے پر پہنچانا ضروری ہے، اور خیبرپختونخوا حکومت کو اس پالیسی میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

Responses

تازہ ترین فیکٹ چیکس

>

Share story