مرکزی خبر پر جائیں
0سکے

مذاکرات کی ناکامی کی وجہ کے پی حکومت کا امن و امان کی ضمانت دینے سے انکار تھا، رانا ثناء اللہ

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: مذاکرات کی ناکامی کی وجہ کے پی حکومت کا امن و امان کی ضمانت دینے سے انکار تھا، رانا ثناء اللہ
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات امن و امان کی ضمانت پر ناکام ہوئے۔
  • انہوں نے دعویٰ کیا کہ کے پی حکومت نے اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھانے کا عہد کرنے سے انکار کیا۔
  • ثناء اللہ نے دہرایا کہ اگر پی ٹی آئی احتجاج ترک کر دے تو مذاکرات ممکن ہیں۔

اب تک کی صورتحال

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے مسلسل یہ موقف اختیار کیا ہے کہ حکومت کے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، لیکن انہوں نے پی ٹی آئی کو اپنے لانگ مارچ کے ذریعے 'ریاست کو یرغمال بنانے' سے خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کم ٹرن آؤٹ کی وجہ سے احتجاج کو 'ناکام' قرار دیا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان گزشتہ مذاکرات بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گئے تھے، پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ بانی عمران خان کی شرکت کے بغیر بامعنی مذاکرات ممکن نہیں۔

تازہ ترین پیش رفت

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات اس لیے ناکام ہوئے کیونکہ خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے کی ضمانت دینے سے انکار کر دیا، جو کہ ایک کلیدی حکومتی مطالبہ تھا۔

تازہ ترین اپڈیٹس

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ حالیہ مذاکرات اس لیے ناکام ہوئے کیونکہ خیبرپختونخوا حکومت نے امن و امان برقرار رکھنے کی اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے کی ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگرچہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی حکومتی مطالبے پر کسی حد تک متفق نظر آئی، لیکن صوبائی حکومت اور وزیر اعلیٰ کوئی ضمانت دینے کو تیار نہیں تھے، جس کی وجہ سے تعطل پیدا ہوا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں لیکن خبردار کیا کہ 'ریاست کو یرغمال بنا کر' مطالبات تسلیم نہیں کیے جا سکتے۔

Responses

تازہ ترین فیکٹ چیکس

>

Share story