مرکزی خبر پر جائیں

پولیس پر فائرنگ کیس: سپریم کورٹ نے ‘ہاف فرائی’ کی اصطلاح پر ریمارکس دیتے ہوئے ملزم کی ضمانت منظور کرلی

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: پولیس پر فائرنگ کیس: سپریم کورٹ نے ‘ہاف فرائی’ کی اصطلاح پر ریمارکس دیتے ہوئے ملزم کی ضمانت منظور کرلی
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • سپریم کورٹ نے پولیس پر فائرنگ کے ملزم کو ضمانت پر رہا کر دیا۔
  • یہ کیس 'ہاف فرائی' کی عامیانہ اصطلاح پر جج کے ریمارکس کی وجہ سے قابل ذکر ہوا۔
  • وکیل نے وضاحت کی کہ 'ہاف فرائی' کا مطلب ٹانگ میں گولی لگنا ہے، جان سے مارا جانا نہیں۔

اب تک کی صورتحال

سپریم کورٹ نے راولپنڈی میں پولیس پر فائرنگ کیس کے ملزم ارشاد کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں ہونے والی کارروائی اس وقت قابل ذکر ہو گئی جب ملزم کے وکیل نے 'ہاف فرائی' کی اصطلاح استعمال کی۔ وکیل نے وضاحت کی کہ اس کا مطلب ہے کہ اس کے مؤکل کو جان سے مارنے کے بجائے ٹانگ میں گولی ماری گئی، جبکہ 'فل فرائی' کا مطلب جان سے مار دینا ہے۔ سرکاری وکیل کی جانب سے ملزم کے 16 سے زائد سابقہ مقدمات کا ذکر کرنے کے باوجود، عدالت نے وکیل کی استدعا پر ضمانت منظور کر لی۔

تازہ ترین پیش رفت

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پولیس پر فائرنگ کے الزام میں گرفتار ملزم ارشاد کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے ملزم کے وکیل کی جانب سے 'ہاف فرائی' کی اصطلاح کے استعمال پر سوال اٹھایا، جس کا مطلب ٹانگ میں گولی لگنا بتایا گیا۔

ذرائع اور اپڈیٹس

GNN

Responses

>